انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 82

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی اس کے ذریعہ سے سب لوگ ایک جھنڈے کے نیچے آ جائیں گے تو بہر حال خدا جو بات کہئے اسے پورا ہونا چاہئے اور چونکہ یہ انقلابی تعلیم تھی اور اس لئے دی گئی تھی کہ سب دنیا کو ایک کر دیا جائے اور قومیتوں کو کمزور کر دیا جائے اس لئے ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا اس مقصد کو میسجیت نے پورا کر دیا ؟ عیسائی بیشک یورپ میں بھی پھیلے اور چین میں بھی پھیلے اور جاپان میں بھی پھیلے اور ہندوستان میں بھی پھیلے اور ایسی ایسی جگہ پہنچے جہاں شاید مسلمان بھی نہیں پہنچے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس تعلیم کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا؟ اس تعلیم کی غرض تو یہ تھی کہ جدائی کے خیالات مٹا دیئے جائیں۔قومیتوں کو کمزور کر دیا جائے اور سب دنیا کو مساوات کے جھنڈے کے نیچے لایا جائے۔اب اگر مسیح کو خدا نے کہا تھا کہ تیرے ذریعہ سے اقوام عالم کا تفرقہ مٹ جائے گا اور سب دنیا ایک ہو جائے گی تو عیسائیت کے ذریعہ سے یہ انقلاب پیدا ہو جانا چاہئے تھا اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے یہ کہا تھا کہ تیرے ذریعہ سے اقوامِ عالم کا تفرقہ مٹے گا اور سب دنیا ایک جھنڈے کے نیچے آئے گی تو اسلام کے ذریعہ سے یہ انقلاب پیدا ہونا چاہئے تھا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ حیت سے زیادہ نیشنلزم اور قوم پرستی کی تعلیم کسی اور نے نہیں دی اور دنیا میں ایک ملک بھی تم نہیں دکھا سکتے جہاں مسیحیت نے مساوات قائم کی ہولیکن دنیا میں تم ایک ملک بھی ایسا نہیں دکھا سکتے جہاں اسلام گیا ہو اور مساوات قائم نہ ہوئی ہو۔آج انگریز جرمن کا دشمن اور جرمن انگریز کا دشمن ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لئے ہوائی جہاز بناتے ، تو ہیں ایجاد کرتے اور نئے سے نئے اور دُور دُور تک گولہ باری کرنے والے بم بناتے ہیں لیکن باوجود اس کے ایک ہندوستانی عیسائی سے ایک انگریز وہ تعلقات کبھی پیدا نہیں کرے گا جو ایک جرمن دہریہ سے کر لے گا۔اگر خدا نے اس کو سب دنیا کے لئے بھجوایا تھا تو اس کا نتیجہ وہ کیوں نہ نکلا جو نکلنا چاہئے تھا؟ اور تو اور یورپین عیسائی تو ان سے بھی مساوات نہیں برتتے جو ان کے خداوند کے بھائی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو جرمن اور دوسرے ممالک میں یہودیوں پر کتنے مظالم کئے جارہے ہیں آخر یہ کون ہیں؟ یہ ان کے خداوند کے بھائی ہی تو ہیں مگر یہ ان سے بھی مساوات برتنے کے لئے تیار نہیں۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر مساوات پیدا کر دی ہے کہ ایک جاہل عرب ایک منگتا عرب ایک کثیر ا عرب دنیا کے کسی کو نہ میں چلا جائے، مسلمانوں کی