انوارالعلوم (جلد 15) — Page 74
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّلِحِينَ و حسن أوليك رفيقاً ۶۸ کہ وہ لوگ جو خدا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین میں شامل کرے گا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ نزول شرائع کے بعد یہ نقص جو پیدا ہو جاتا ہے کہ لوگ شریعت کو بُھول جاتے ہیں اور تعلیم باوجود موجود ہونے کے بریکار ہو جاتی ہے اس سے گو کسی تعلیم کی افضلیت کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ خود بندوں کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن چونکہ اس قسم کی بیماری کا خطرہ ہر وقت ہو سکتا ہے اس لئے ہم بتا دیتے ہیں کہ ایسے خطرہ کے اوقات میں اسلام کو باہر سے کسی کی امداد کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ خود یہی تعلیم اپنے نقص کا علاج پیدا کر لے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا نقص خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاگردی کے ذریعہ سے دُور ہو جائے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تعلیم کے بھول جانے کا علاج موسیٰ کے وقت میں بھی ہوا۔مگر اُس وقت باہر سے طبیب بھیجا جاتا تھا یعنی ایسا شخص کھڑا کیا جاتا تھا جو گو اُمت موسوی میں سے ہی ہوتا مگر مقام نبوت اسے براہِ راست حاصل ہوا کرتا تھا۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ جب کبھی اس میں کوئی نقص پیدا ہو آپ کا کوئی غلام ہی اس نقص کو دور کرنے کے لئے کھڑا ہو جائے گا۔گویا آئندہ جو مرض پیدا ہو گا اس کا علاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے ہی نکل آئے گا۔اسلامی تعلیم کے افضل ہونے کے اب میں اسلام کی تعلیم کے افضل ہونے کی بعض مثالیں دیتا دلائل کتاب کے ساتھ حکمت کا بیان ہوں۔اسلام میں احکام مع دلیل بیان ہوئے ہیں جس سے تصوف کامل کی بنیاد خود اصل کتاب سے پڑی ہے۔یہود کی طرح کسی اور نبی کے توجہ دلانے کی ضرورت پیدا نہیں ہوئی۔قرآن مجید سے قبل جو الہامی کتب تھیں ان میں احکام تو دئیے جاتے تھے مگر بالعموم ان کی تائید میں دلائل نہیں دیئے جاتے تھے مثلاً یہ تو کہا جاتا تھا کہ نماز پڑھو مگر یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ کیوں نماز پڑھو؟ اس میں کیا فائدہ ہے اور اس کی کیا غرض ہے؟ مگر قرآن کریم نے جہاں احکام دیتے ہیں وہاں ان احکام کے دلائل بھی دیئے ہیں اور ان