انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 22

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھا ئیں گے حجت تمام کرتا ہوں اور ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ تم خدا کے حضور ضرور پکڑے جاؤ گے۔تم خدا اور اس کے دین کو کھلونا بنا رہے ہو اور ہنسی کر رہے ہو لیکن خدا کے حضور تمہاری چالاکیاں، ہوشیاریاں، بڑائیاں اور تکبر کوئی چیز کام نہ دے سکے گی۔ہر ایک جو منافقوں کے حوصلے اپنے عمل اور سلوک سے بڑھاتا ہے ، وہ اچھی طرح سُن رکھے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا میں ہمارے سامنے اور اگلی دنیا میں اپنے سامنے ذلیل کرے گا۔پس دشمنوں اور منافقوں سے بچو اور جب وہ منافقت کی بات کریں ان سے الگ ہو جاؤ۔منافق ہمیشہ پر فریب طریق پر بات کرتا ہے مثلاً وہ کہے گا کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی تو بہت اچھے ہیں، مگر دوسرے احمدی ایسے ہیں کہ جماعت کو بد نام کر رہے ہیں۔پس تم جس شخص کو دیکھو کہ عام لوگوں میں بیٹھ کر جماعت پر اعتراض کرتا ہے سمجھ لو کہ منافق ہے اور لَا حَول پڑھتے ہوئے اس کے پاس سے اُٹھ جاؤ۔پھر جو شخص تمہیں سلسلہ کی خدمت سے روک رہا ہو، خواہ اسی بہانہ سے روکتا ہو کہ اس سے بہتر خدمت کا موقع تمہیں مل سکے گا اس کے متعلق بھی سمجھ لو کہ وہ منافق ہے۔اس وقت سلسلہ کے کام بہت پھیل رہے ہیں اور ہمیں آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ علوم حاصل کریں ، نائٹ سکول کھولے جائیں جہاں لیکچرار مقرر کر دئیے جائیں کہ دوستوں کو مسائل یاد کرا کے تبلیغ کے لئے تیار کریں۔سب سے آخر میں پھر یہی نصیحت کرتا ہوں کہ جب تک تم اپنے لئے موت قبول نہ کرو، زندگی حاصل نہیں کر سکتے۔تم سے اگر کوئی پوچھے کہ اسلام کی زندگی کی کیا صورت ہے؟ تو تمہاری طرف سے اس کا ایک ہی جواب ہونا چاہئے کہ ہماری موت ، موت ،موت۔پس تم اس کے لئے تیار ہو جاؤ۔آج ہمیں حکومت سے بھی صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہئے کہ ہم مذہب میں کسی قسم کی دخل اندازی گوارا نہیں کر سکتے۔ہم ایک ایک کر کے مر جائیں گے مگر یہ نہیں ہونے دیں گے۔اور آج ہمیں احرار سے بھی یہ کہہ دینا چاہئے کہ ہم نرم طبائع رکھتے ہیں فسادی نہیں ہیں لیکن تمہاری ایک ایک قربانی کے مقابلہ میں ہم دس دس پیش کر کے بھی خوش نہیں ہو نگے۔ہم اُس وقت تک آرام کا سانس نہیں لیں گے جب تک کہ تم لوگ یا تو تو بہ نہ کر لو اور یا پھر تمہارے نظام کو ہم دنیا سے فنا نہ کر دیں اور تمہاری پارٹی کو توڑ نہ دیں۔ہمارے آرام کی اب دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ایک تو یہ کہ تم مومن بن جاؤ اور دوسری یہ کہ تم پر ا گندہ ہو جاؤ۔اور آج ہمیں منافقوں سے بھی صاف الفاظ میں یہ کہہ دینا چاہئے کہ ہم ہر اس دل کو جس میں سلسلہ کے