انوارالعلوم (جلد 14) — Page 21
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے دکھائی گئی ہے۔جھوٹی نام و نمود کی قربانی بہت مشکل ہوتی ہے تعلیم یافتہ بے کار یہ ہمت نہیں کرتے کہ ” الفضل“ کے پرچے بغل میں دبا کر بیچتے پھر ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ نو جوان اس مرض کو دور کریں گے اور والدین بھی اپنی اولاد سے اس مرض کو دور کرانے کی کوشش کریں گے کہ یہ مرض قوم کی کام کرنے کی روح کو کچل دیتا ہے۔پھر میں نے ہاتھ سے کام کرنے کی نصیحت کی تھی ، اس کی طرف بھی کم توجہ کی گئی ہے۔میں نے کہا تھا کہ اگر قادیان کی جماعت کوئی ایسے کام پیدا کرے تو میں بھی دوستوں کے ساتھ ان کاموں میں شریک ہوں گا لیکن ابھی تک کوئی ایسا کام پیدا نہیں کیا گیا۔ایک تحریک یہ تھی کہ پنشن یافتہ دوست یہاں آئیں۔اس کے ماتحت جس قدر آدمیوں کی ضرورت تھی اتنے میسر نہیں ہوئے۔ان سب باتوں کے علاوہ میں نے دعا کے لئے کہا تھا۔اور نصیحت کی تھی کہ دوست یہ دعا ئیں کثرت سے پڑھا کریں۔اَللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوذُبِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ اور رَبِّ كُلُّ شَيْي ءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرُنَا وَارْحَمُنَا۔لیکن شاید بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دعائیں صرف روزوں کے ایام کے لئے ہی تھیں، حالانکہ یہ صحیح نہیں جب تک یہ فتنہ رہے دوستوں کو چاہئے کہ یہ دعائیں پڑھتے رہیں۔ان کے علاوہ اپنی اپنی زبان میں زیادہ جوش کے ساتھ بھی دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے اور ہمیں ایسا روحانی غلبہ عطاء کرے کہ ہم لوگوں کے خیالات میں ، افکار میں ، رُجحانات میں ، ان کے قلوب میں، زبانوں میں ، اعمال میں، تمدن میں ، دین میں اصلاح کر سکیں تا جیسے خدا کی بادشاہت آسمان پر ہے زمین پر بھی ہو۔ان کے علاوہ اور بھی بعض باتیں ہیں مگر زیادہ اہم یہی ہیں ، بعض کو دوسری باتوں کے ساتھ ملا کر بیان کر دیا ہے۔بالآخر میں دوستوں کو پھر نصیحت کرتا ہوں کہ قادیان میں مکان بنوائیں اور امانت فنڈ کو مضبوط کریں، یہ نہایت اہم کام ہے اور دشمن کے مقابلہ کے لئے آپس میں تعاون سے کام لیں۔بغیر تعاون کے کوئی کام نہیں ہو سکتا۔جو کام قوموں کے سپرد ہوتے ہیں وہ افراد نہیں کر سکتے پس چاہئے کہ جماعت احمدیہ کا ہر بچہ، ہر جوان ، ہر بوڑھا، ہر مرد اور ہر عورت ایسے رنگ میں کام کرے کہ قیامت کے دن کہہ سکے اے خدا! ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔اگر آپ لوگ تاویلیں اور بہانے کریں گے تو کام پھر بھی خدا تعالیٰ کر دے گا مگر یہ بہت شرم کی بات ہوگی ، آپ کیلئے اور میرے لئے بھی کیونکہ شاگردوں کی ذمہ واری استاد پر بھی ہوتی ہے۔جو لوگ محض رشتہ داری یا محبت کی خاطر منافقوں سے ملتے رہتے ہیں، ان پر بھی میں