انوارالعلوم (جلد 14) — Page 566
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ہے اور کیسے شاندار رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ میں علی ہوں اور ایک گروہ خوارج کا میری خلافت کی مزاحمت کر رہا ہے میں نے خوارج کے حالات بتائے ہیں ان سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خوارج کے گروہ اور مصری صاحب کے درمیان پوری موافقت ہے۔(۱) خوارج پہلے بیعت میں تھے پھر حضرت علی کو گنہگار قرار دے کر بیعت سے علیحدہ ہوئے۔یہی حال مصری صاحب کا ہے۔مصری صاحب بھی پہلے میری بیعت میں تھے پھر مجھ پر اخلاقی الزام عائد کر کے اور مجھے گنہگار قرار دے کر وہ بیعت سے الگ ہوئے۔(۲) خوارج کا مطالبہ تھا کہ تو بہ کرلو پھر ہماری تمہاری صلح ہو جائے گی۔بعینہ یہی مصری صاحب نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے بلکہ آخر میں انہوں نے یہاں تک لکھا کہ علیحدہ کمرہ میں میں آپ کے پاس آ جاتا ہوں آپ صرف میرے سامنے تو بہ کر لیں تو میں تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر آپ کے ساتھ ہو جاؤں گا۔خوارج کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر علی تو بہ کر لیتے تو بڑا مزہ آتا کیونکہ پھر ہم کہہ سکتے تھے کہ اب تو انہوں نے اپنے منہ سے گناہ کا اقرار کر لیا ہے اور جب انہوں نے گناہ کیا تو خلافت سے الگ ہو گئے۔اب ہماری مرضی ہے جسے چاہیں خلیفہ بنا ئیں اور جسے چاہیں نہ بنا ئیں۔(۳) خوارج نے حضرت علیؓ سے تحکیم کا مطالبہ کیا۔اُنہوں نے مان لیا تو پھر اس سے پھر گئے۔انہوں نے بھی کمیشن کا مطالبہ کیا۔میں نے پہلے تجربہ کی بناء پر نہیں مانا مگر جب میں نے کمیشن کی تشریح چاہی تو خاموش ہو گئے اور اب جواب تک نہیں دیتے۔اور اگر میں حضرت علیؓ کی طرح ان کی بات مان لیتا تو جھٹ کہتے دیکھا انہیں اپنی خلافت پر شبہ ہے۔(۴) خوارج کا دعویٰ تھا کہ خلافت قومی ہے نہ کہ فردی اور یہ کہ امیر کی نگران قوم ہے جب کوئی اُسے بگڑا ہوا دیکھے اس سے علیحدہ ہو جائے بعینہ یہی دعویٰ مصری صاحب کا ہے۔(۵) خوارج گندے الزام خلفاء اور صحابہ پر لگاتے تھے۔یہی مصری صاحب کرتے ہیں۔مجھ پر جو الزام لگاتے ہیں وہ تو اکثر مشہور ہیں۔جماعت پر بھی انہوں نے اس طرح اپنے خط میں الزام لگایا ہے کہ جماعت میں بدکاری بہت بڑھ گئی ہے اور پھر دہریت کا الزام بھی انہوں نے جماعت پر لگایا۔(۶) خوارج کہتے تھے کہ یہ لوگ اندھے ہیں کہ کہتے ہیں علی جو کچھ کرتا ہے ٹھیک ہے اور اس ہے۔