انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 496 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 496

انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء گا، وہ بھی تباہ نہ ہوگا بلکہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ میں نے مقرر نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے اور جو شخص یہاں آ کر دیکھتا ہے کہ پہلے کیا حالت تھی اور اب کیا ہے وہ خوب اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی آواز پر کھڑے ہونے والے کبھی ناکام نہیں ہو سکتے۔گجا وہ وقت کہ بٹالہ کے ایک ملا نے کہا میں نے اس ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کو اونچا کیا ہے اور میں ہی اسے گر ا دوں گا، اور گجا یہ حالت کہ آج اس کی روح بھی آکر دیکھتی ہوگی تو حیران ہوتی ہوگی کہ میں نے کیا کہا اور خدا نے کیا کیا۔غرض یہاں کی ہر چیز بلکہ وہ ہر ذرہ جو ناک میں جاتا ہے کہتا ہے کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے کس شان سے اپنے وعدے پورے کئے اور خدا کس طرح اپنی راہ میں قربانی کرنے والوں کی مدد اور نصرت کرتا ہے۔آپ لوگوں کو یہاں ہر سال جمع کرنے کی یہ غرض ہے کہ خدا تعالیٰ دکھائے کہ تم چھوٹی چھوٹی چیزوں پر تسلی نہ پاؤ بلکہ یہ دیکھو کہ خدا کے حضور تمہارے لئے کتنے بڑے درجات ہیں۔خدا تعالیٰ کہتا ہے دیکھو میں نے غلام احمد کو اکیلا کھڑا کیا پھر اسے کتنی ترقی دی۔اگر تم بھی خدا کے فضلوں کی اُمید رکھو اس پر بدظنی نہ کرو، نہ اپنے نفس کے متعلق ، تو خدا تم کو دوسرا غلام احمد بنا دے گا۔خدا کے نبی دنیا میں اس لئے آتے ہیں کہ لوگ ان کے نقش قدم پر چلیں اور وہی برکات حاصل کریں۔پس خدا تعالیٰ نے یہ جلسہ اس لئے مقرر کیا ہے کہ تا تم پر ثابت کرے کہ خدا کے وعدے ہمیشہ بچے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کیلئے قربانی کرنے والے مرتے نہیں بلکہ زندہ رکھے جاتے ہیں بلکہ قربانی کے بعد بندہ اور زیادہ ترقی کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والے کی مثال اس بچہ کی ہوتی ہے جو ماں سے کہتا ہے میں مرتا ہوں اور ماں کہتی ہے تم نہ مرو۔خدا تعالیٰ ماں سے بہت زیادہ محبت اپنے بندوں سے کرتا ہے اس لئے جب وہ اس کی خاطر موت قبول کرتے ہیں تو وہ انہیں زندہ رکھتا ہے۔اس رنگ میں احباب کو اس جلسہ سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔پس میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے بھی توفیق دے اور آپ سب لوگوں کو بھی کہ ہم خدا تعالیٰ پر کامل حسن ظنی کریں، زیادہ سے زیادہ اپنے نفس پر حُسن ظنی کریں، اپنے نفوس کی حقیقت کو سمجھیں اور ان طاقتوں کو استعمال کرنے کی توفیق دے جو خدا تک پہنچا دیتی ہیں ، اس اخلاص اور نیت کی توفیق دے جس کے ماتحت اس کے حضور قربانی قبول کی جاتی ہے، وہ اپنی محبت کی راہوں پر چلنے کی