انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 495

انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۳۷ء آپ کو انسان اور روحانی آدمی سمجھو گے اور پھر جو باتیں کرو گے وہ اگر نقلی بھی ہونگی تو خدا تعالیٰ ان کو اصلی بنادے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے: نماز کیا ہے؟ نقل ہے اپنے اندر خشوع خضوع پیدا کرنے کی۔نماز میں انسان اس قسم کی حرکات کرتا ہے جو ایک مضطرب کرتا ہے اور اخلاص سے اگر نقل بھی کی جائے تو خدا تعالیٰ اسے اصل بنا دیتا ہے۔پس یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اس جلسہ کے موقع پر دل کو اس یقین اور وثوق کے ساتھ پر کیا جائے جس کے پیدا کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے اور جس کے لئے ہمیں یہاں جمع ہونے کا حکم دیا ہے۔دیکھوںکہ میں تمام دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ایک بچہ چھوڑا تھا، وہاں کچھ نہ تھا بے آب و گیاہ جگہ تھی ، ایک مشکیزہ پانی کا اور ایک تھیلی کھجوروں کی رکھ کر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے چلے تو رقت کی وجہ سے یہ حالت تھی کہ بول بھی نہ سکتے تھے۔حضرت ہاجرہ نے پوچھا آپ ہمیں یہاں چھوڑے جاتے ہیں تو کوئی جواب نہ دے سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں آپ منہ مکہ کی طرف کر کے اُلٹے پاؤں چلتے اور ان کی طرف دیکھتے جاتے۔وہاں کوئی سامان نہ تھا آخر حضرت ہاجرہ نے پوچھا کیا خدا کے حکم سے چھوڑ رہے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تب بھی ان سے کوئی جواب نہ دیا گیا بلکہ آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھا دیا جس کے معنی یہ تھے کہ خدا کے حکم سے ہی چھوڑ رہا ہوں۔تب حضرت ہاجرہ نے کہا۔اِذًا لا يُضَيعُنَا اگر خدا نے یہ حکم دیا ہے تو وہ خود ہماری حفاظت کرے گا۔دیکھو گجا وہ جنگل بے آب و گیاہ اور کجا یہ حالت کہ سالانہ دنیا بھر کے لوگ وہاں جاتے ہیں اور لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّیک کہہ کر ظاہر کرتے ہیں کہ ہم حضرت اسماعیل کی جگہ حاضر ہو گئے اور حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی خدمت کیلئے موجود ہیں۔پھر اس مقام پر جا کر پتہ لگتا ہے کہ ہم سے کس طرح کی قربانیاں خدا تعالیٰ چاہتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ خیال کرنا کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے سے انسان تباہ ہو جاتا ہے، خدا تعالیٰ پر کتنی بڑی بدظنی ہے۔کیا خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو تباہ ہونے دیا اگر نہیں تو اور جو کوئی اس کی راہ میں قربانی کرے