انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 395

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ان سے انصاف کی توقع ہے۔۱۱۔بجواب سوال کمیشن کہ جب آپ کو معلوم ہے کہ حضرت صاحب آپ پر ناراض ہیں تو آپ نے کوئی کوشش وجہ ناراضگی کے معلوم کرنے کیلئے کی ؟ عرض ہے کہ جن ذرائع سے مجھے اس اظہارِ نا راضگی کا علم ہوا انہی ذرائع سے میں نے بعض بیان کردہ وجوہات ناراضگی کا تسلی بخش جواب بھیجا جو حضور تک پہنچ گیا۔اور ان وجوہات میں جس قد روجہ میرے امکان میں تھی اس سے اجتناب کر لیا مگر باوجود اس کے بھی ناراضگی بدستور چلی گئی جس سے میں یہی سمجھتا ہوں کہ وجو ہات ناراضگی اور ہیں جو ابھی تک ظاہر نہیں کئے گئے۔دسمبر ۱۹۳۵ء کے آخر میں میں نے ایک دعوت کی جس میں علاوہ دیگر معزز دو دوستوں کے حضرت صاحب کی خدمت میں بھی دعوت نامہ بھیجا۔اس پر حضرت صاحب نے بطور نا راضگی دعوت میں آنے سے انکار فرمایا۔اس پر میں نے پھر مفضل عریضہ دوسرے روز لکھا جس میں غالباً وجو ہات ناراضگی دریافت کی گئی تھیں اور پیشگی معافی بھی مانگی گئی تھی مگر اس کا جواب کچھ نہ آیا۔اس کے بعد سید عزیز اللہ شاہ صاحب کے ذریعہ وجوہات ناراضگی میرے پاس پہنچیں۔ان کے ایک ایک کر ما کے معقول اور مدلل جواب ان کے ذریعہ بھیجے۔پھر اس کے بعد حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے دسمبر ۱۹۳۶ء میں زبانی کوئی اشارہ کیا، اس پر بھی میں نے ان کو کہا کہ مجھے بتلایا جائے کہ میرے متعلق کیا شکایت ہے تا کہ میں اس کا ازالہ کروں مگر وہ بھی کوئی خاص معین شکایت نہ بتلا سکے۔اس پر میں نے ان کی مزید تسلی کیلئے ایک مفضل عریضہ لکھا جس کی نقل میں کمیشن کے مطالعہ کیلئے پیش کرتا ہوں ، ملاحظہ فرمالیں۔پس جب تک مجھے اصل وجہ ناراضگی کا علم نہ ہو تب تک میں حضور کی ناراضگی کس طرح دور کر سکتا ہوں۔اس سے قبل میجر سید حبیب اللہ شاہ صاحب بھی مجھے ناراضگی کے متعلق فرما چکے تھے۔اس کے بعد ابھی ایک دو ماہ گزرتے ہیں ، میاں محمد عبد اللہ خان صاحب نے بیان کیا۔جبکہ اسی خیال کے ماتحت خُفیہ آدمی کئی ایک میرے اردگر دچھوڑ رکھے تھے۔اس دوسال کے عرصہ میں انہیں کوئی بات مجھ سے سلسلہ کے خلاف نہ مل سکی۔اور اگر ملیں تو یہ چند شکایات جو میں نے ان سی۔آئی۔ڈی کو حضرت صاحب تک اپنی آواز پہنچانے کا ذریعہ سمجھ کر بیان کیں۔اور وہ بھی اُس وقت جبکہ سہی۔آئی۔ڈی والے اپنی ڈائری مکمل کرنے کیلئے یا اس کی خانہ پُری کرنے کے لئے مجھ سے خواہ مخواہ چھیڑ خوانی کر کے کچھ نہ کچھ نکالنے کیلئے کوشش کرتے تھے۔اور