انوارالعلوم (جلد 14) — Page 394
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ حال ہی میں دفتر تحریک جدید میں چھپیں روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا ہے حالانکہ اس سے زیادہ تعلیم و تجربہ والے ایف۔اے اور بی۔اے پاس تک یہاں پندرہ پندرہ ہیں ہیں پر ملازم ہیں۔اور پھر اس کو ایسے وقت یہ خاص رعایت دی گئی ہے جبکہ اس کے متعلق خفیہ رپورٹوں کے ذریعہ کئی ایک شکایات پہنچ چکی ہیں۔۔مجھے مندرجہ ذیل الفاظ کہے ہوئے یاد نہیں کہ میں تو اس میں اپنی ہتک سمجھتا ہوں اور ہمیں انصاف کی توقع نہیں اور ممکن ہے میں نے اس مفہوم کا فقرہ کہا ہو کہ ان الزامات کے متعلق خود دعوی کر کے اور بے عزت ہوں۔کیونکہ یہ دعویٰ ہی اسی قسم کا ہے کہ اس کی جرح قدح میں ملزمین مدعیوں کو ذلیل کرنے کیلئے بہت کچھ خاک اُڑا سکتے ہیں۔انتظامی طور پر رپورٹیں کافی سے زیادہ پہنچ چکی ہیں۔ے۔بجواب اس سوال کے کہ آیا آپ اس وقت بھی حضرت صاحب کی خدمت میں یا قضاء یا امور عامہ میں دعویٰ کرنے کو ہتک سمجھتے ہیں۔عرض ہے کہ نہیں بلکہ عنقریب میں احسان علی وغیرہ پر بقیہ مال مسروقہ کے متعلق قضاء میں دعویٰ کرنے والا ہوں۔ڈاکٹر فضل الدین صاحب سے مختار نامہ منگایا ہوا ہے۔مجھے یاد نہیں کہ ڈاکٹر فضل الدین صاحب نے کس کی طرف یہ بات لکھی تھی کہ مجھے لکھا گیا تھا کہ بعد فیصلہ مقدمہ کا رروائی کی جائے گی۔۔میں نے جہاں تک مجھے یاد ہے مخبر کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ جا کر دعوی کریں یہ کہا تھا کہ ایسے حالات میں بعض دفعہ دعوی کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی جاتی چنانچہ مقبول کے متعلق کوئی دعوی وغیرہ نہیں ہوا۔صرف خفیہ رپورٹوں یا ذاتی معلومات کی بناء پر اُس کے اخراج کا فیصلہ کیا گیا۔نہ صرف اخراج کا بلکہ اُس کے متعلق مقاطعہ کا خفیہ طور پر اعلان کیا گیا تھا۔اسی طرح اب بھی ان کے متعلق کیا جاسکتا ہے۔۹۔مجھے یہ فقرہ کہا ہوا یاد نہیں کہ میں فیصلہ کے متعلق نہیں کہ سکتا۔ہاں اگر سابقہ ناراضگی درمیان میں حائل نہ ہوگئی تو بجواب سوال کمیشن کے عرض ہے کہ واقعی عرصہ دو سال سے حضرت صاحب کسی نامعلوم وجہ کے ماتحت مجھ سے اور مصری صاحب سے اور مصباح الدین صاحب سے ناراضگی کا اظہار فرما چکے ہیں۔۱۰۔بجواب سوال کمیشن کہ کیا حضرت صاحب دیدہ دانستہ آپ کے خلاف فیصلہ کر دیں گے؟ عرض ہے کہ میں قبل از وقت اس کے متعلق کیا کہہ سکتا ہوں۔بحیثیت خلیفہ کے مجھے۔