انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 376

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) بات پر کوئی شخص ٹھو کر کھا جاتا ہے کہ انجمن کا سیکرٹری فلاں کیوں بنا مجھے کیوں نہ بنایا گیا۔گویا ہر وقت اُن کی نظر نیچی رہتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ تم کو طائر بنانا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے كُلَّ إِنْسَانِ الْزَمُنهُ طَئِرَهُ فِي عُنُقِہ ہم نے ہر انسان کی گردن کے نیچے ایک طائر باندھ رکھا ہے۔اب بتاؤ جس کی گردن کے نیچے کوئی چیز باندھ دی جائے اُس کی نگاہ کبھی نیچی بھی ہو سکتی ہے وہ تو ہمیشہ اوپر کی طرف دیکھے گا۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ تم اپنی نگا ہیں ہمیشہ اونچی رکھو۔کیونکہ تم مسلمان ہو اور مسلمان کے برابر دنیا میں اور کوئی نہیں ہوتا۔پس فائدہ اُٹھاؤ میرے اِس وعظ ونصیحت سے۔اور جب اپنے گھروں میں جاؤ تو اس ارادے اور نیت کے ساتھ جاؤ کہ آئندہ ہم چوہے اور چھپکلیاں نہیں بنیں گے بلکہ وہ طائر بنیں گے جو ہواؤں میں اُڑتے پھرتے ہیں اور اپنے خدا کی آواز سننے کی کوشش کریں گے۔اس کے بعد میں دعا کروں گا دوست بھی دعا اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کریں۔اپنے لئے بھی ، اپنے رشتہ داروں کیلئے بھی کیونکہ یہ جامع دعا ہوتی ہے۔جو احمدی ہیں اُن کیلئے بھی کہ انہیں روحانی ترقی نصیب ہوا اور جو غیر احمدی ہیں ان کے لئے بھی کہ انہیں ہدایت حاصل ہو۔اسی طرح اپنے شہر والوں کیلئے ، اپنے ہمسایوں کیلئے اور اپنے ملک والوں کیلئے دعائیں کرو اور خصوصیت سے جماعت کیلئے یہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت میں سچا تقویٰ، پرہیز گاری اور تقدس پیدا کرے کیونکہ بغیر اس کے کہ ہم اسلام کا عملی نمونہ ہوں ہماری زندگیاں کسی کام کی نہیں۔پس دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ایسی محبت پیدا کر دے جس کے مقابلہ میں اور تمام محبتیں سرد ہو جائیں۔اور ہمیں ہر جگہ وہی نظر آئے۔اگر ہم بیویوں سے محبت کریں تو خدا کیلئے ، اگر ہم ماں باپ سے محبت کریں تو خدا کیلئے ، اگر ہم اپنی جانوں سے محبت کریں تو خدا کیلئے ، اور اگر ہم مال سے محبت کریں تو خدا کیلئے۔ہماری مثال حضرت علیؓ کی سی ہو جائے کہ اُن سے جب اُن کے بیٹے