انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 375

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) لیکن میرا اندازہ ہے کہ تین سو بلکہ اس سے بھی زیادہ دلائل ایسے دیے جا سکتے ہیں جن سے قرآن کریم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور جن کے مقابلہ میں عام انسانی کتابیں تو الگ رہیں الہامی کتابیں بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔لیکن ان کا لکھنا میرے بس کی بات نہیں۔کام اتنا زیادہ ہو گیا ہے اور پھر صحت ایسی خراب رہتی ہے کہ اس کو دیکھتے ہوئے یہ کام بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔اس کے بعد میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آر لوگ جلسے پر آئے ، تقریریں سنیں اور جلسہ ختم ہو گیا۔اس جگہ آنے اور تقریریں سننے کا آخر کوئی فائدہ ہونا چاہئے ورنہ آ کر خالی ہاتھ چلے جانا تو اپنے اوقات اور اموال کو ضائع کرنا ہے۔پس جلسہ سالانہ سے فائدہ اُٹھاؤ اور اس دفعہ میں نے جو مضمون بیان کیا ہے اس کی مناسبت سے کوشش کرو کہ تم طیر بن جاؤ۔اور ہد ہد والے کمال تم میں آجائیں۔اگر سلیمان کی اُمت میں سے ایک شخص جس کا نام ہد ہد تھا اتنے کمال اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے کہ توحید کے بار یک اسرار کا اُسے علم ہو جاتا ہے، سیاست سے وہ واقف ہوتا ہے، سلیمان شام میں ہوتے ہیں اور وہ یمن کی خبر انہیں پہنچا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں جو شرک نظر آتا ہے اُس کو دور کرنا چاہئے حالانکہ سلیمان صرف ایک قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے تو وہ قوم جسے خدا نے یہ کہا ہے کہ جاؤ اور ساری دنیا میں میرا پیغام پہنچاؤ اُس کے افراد کے اندر اگر اپنے مذہب کا درد نہ ہو تو یہ کتنی شرم کی بات ہو گی۔غالباً اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو شرمانے کیلئے یہ قصہ بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے مقابلہ میں تو سلیمان کی امت ایسی ہی ہے جیسے باز کے مقابلہ میں ہد ہد۔پس جب ہد ہد یہ کمال دکھا سکتا ہے تو بازوں کو اپنے اندر جو کمالات پیدا کرنے چاہئیں وہ کسی سے مخفی نہیں ہو سکتے۔پس اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو! اپنے اندر جوشِ اخلاص اور ہمت پیدا کر و۔تم آسمان کی طرف اُڑ و کیونکہ تمہارا خدا اوپر ہے تم نیچے مت دیکھو۔اور معمولی معمولی باتوں کے پیچھے مت پڑو کیونکہ اللہ تعالی تمہیں طائر بنانا چاہتا ہے۔کتنی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن پر تمہیں ابتلاء آ جاتے ہیں۔کہیں اس بات پر لڑائی ہو جاتی ہے کہ فلاں عہد ہ مجھے کیوں نہیں ملا ، کہیں اس