انوارالعلوم (جلد 14) — Page 357
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) کی آگ کا ایک نام حُطَمہ بھی رکھا گیا ہے کیونکہ وہ جلا دیتی ہے۔یہ مطلب نہیں کہ آگ کے پاؤں ہو گئے اور وہ دوزخیوں کو اپنے پیروں کے نیچے مسل ڈالے گی۔تو لَا يَحْطِمَنَّكُمْ کے معنی یہ ہوئے کہ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اُس کا لشکر تمہیں تو ڑ دے یا غصہ سے تم پر حملہ کر دے اور تمہیں تباہ کر دے۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت سلیمان جو اتنے بڑے نبی تھے جن کے پاس جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر در لشکر تھے کیا اُن کا سارا غصہ چیونٹیوں پر ہی نکلنا تھا اور کیا ان سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ چیونٹیوں پر حملہ کرنے لگ جائیں گے؟ میں بتا چکا ہوں کہ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ کے معنی پیروں میں مسل دینے کے نہیں بلکہ طاقت کو توڑ دینے اور حملہ آور ہونے کے ہیں۔اسی لئے عربی زبان میں قحط کو حاطوم کہتے ہیں ۳۲ کیونکہ اس سے ملک کی طاقت ٹوٹ جاتی ہے۔اگر یہ معنی کئے جائیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ چیونٹیوں نے ایک ا دوسری سے کہا کہ اپنے اپنے بلوں میں کھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اُس کا لشکر کدالیں لیکر آ جائے اور ہماری بلوں کو کھود کھود کر غلہ کے دانے نکال لے اور اس طرح ہماری طاقت کو توڑ دے۔مگر کیا عقلمند ان معنوں کو تسلیم کر سکتا ہے؟ تیسری دلیل جو نہایت ہی بین اور واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے جتنے صیغے استعمال کئے ہیں سب وہ ہیں جو ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔مثلاً اُدْخُلُوا کا لفظ آیا ہے حالانکہ چیونٹیوں کے لحاظ سے اُدْخُلُنَّ کا لفظ آنا چاہئے تھا۔اسی طرح لَا يَحْطِمَنَّكُمْ میں کم کا لفظ آتا ہے حالانکہ حسن کا لفظ آنا چاہئے تھا۔پس قرآن مجید کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی انسان تھے جن کے لئے کم اور اُدْخُلُوا وغیرہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ گھروں میں گھس جاؤ اس کا ثبوت حدیث سے بھی ملتا ہے۔یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی لشکر کہیں سے گزرے اور وہاں کے لوگ اپنے گھروں میں گھس جائیں اور دروازے بند کر لیں تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنی شکست تسلیم کرتے ہیں۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم ﷺ نے یہ اعلان کرا دیا تھا کہ جو لوگ اپنے اپنے گھروں میں گھس جائیں گے اور دروازے بند کر لیں گے ان سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔یہی نملہ نے کہا کہ اپنے اپنے گھروں میں جاؤ اور دروازے بند کر لو۔حضرت سلیمان سمجھ جائیں گے کہ یہ میرا مقابلہ کرنا نہیں چاہتے۔اگر ہم باہر رہیں گے تو ممکن ہے وہ حملہ کر دیں۔حضرت سلیمان نے جب یہ نظارہ دیکھا تو وہ ہنسے اور انہوں نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ میری نیکی اور تقویٰ کی کتنی دُور دُور خبر پہنچی ہوئی