انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 356

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) نکل کھڑے ہوئے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ کے قدموں میں گر گئے۔تو بعض طبائع ناری ہوتی ہیں مگر جب نبیوں کے سامنے جاتی ہیں تو ٹھنڈی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ایسی طبیعت رکھنے والے انسانوں کو عربی زبان میں جن کہتے ہیں۔اسی طرح بڑے لوگوں کو اس لحاظ سے بھی جن کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کی نگاہ سے بالعموم مخفی رہتے ہیں۔بڑی بڑی کوٹھیوں میں اُن کی رہائش ہوتی ہے اور اُن کے دروازہ پر لوگ آسانی سے نہیں پہنچ سکتے۔اب اس کے بعد میں نملہ کو لیتا ہوں کہ یہ کیا چیز ہے۔یا د رکھنا نملہ سے کیا مراد ہے؟ چاہئے کہ قرآن کریم کے الفاظ یہ ہیں کہ حَتَّى إِذَا آتَوُا عَلَى وَادِ النَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَأَيُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوا مَسَكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَنُ وَجُنُودُهُ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ جب وہ وادی نملہ میں پہنچے تو ایک نملہ نے کہا اے نملہ قوم ! اپنے اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ۔ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر تمہارے حالات کو نہ جانتے ہوئے تمہیں اپنے پاؤں کے نیچے مسل دیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ نملہ سے کیا مراد ہے؟ پہلی بات جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نملہ سے مراد چیونٹی نہیں یہ ہے کہ ذکر تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو مَنطِقَ الطَّیر سکھائی مگر اس کی دلیل یہ دی گئی کہ چیونٹی بولی تو حضرت سلیمان سمجھ گئے کہ اُس نے کیا کہا ہے۔حالانکہ جب دعویٰ یہ تھا کہ حضرت سلیمان کو پرندوں کی بولی آتی تھی تو دلیل میں مثلاً یہ بات پیش کرنی چاہئے تھی کہ فلاں موقع پر بلبل بولی اور حضرت سلیمان نے کہا بلبل یہ کہہ رہی ہے مگر وہ کہتے ہیں چیونٹی بولی تو حضرت سلیمان کو سمجھ آگئی حالانکہ چیونٹی پرندہ نہیں۔پس نملہ سے مراد اگر چیونٹی لی جائے تو یہ دلیل بالکل عقل میں نہیں آ سکتی کیونکہ قرآن جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو مَنطِقَ الطَّير آتی تھی اور وہ اس کو سمجھتے تھے مگر بولنے لگ جاتی ہے نملہ اور وہ اس کی بات کو سمجھ جاتے ہیں۔غرض پہلی بات جس پر غور کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نملہ کیا چیز ہے؟ دوسری چیز یہ دیکھنے والی ہے کہ یہاں حکم کا لفظ آیا ہے اور حکم کے معنی ہوتے ہیں توڑنے اور غصہ سے حملہ کرنے کے۔عام طور پر لوگ اس کا ترجمہ یہ کر دیتے ہیں کہ سلیمان اور اُس کا لشکر تمہیں اپنے پیروں کے نیچے نہ مسل دے مگر یہ حکم کے صحیح معنی نہیں۔عربی میں حطم کے معنی تو ڑ دینے اور غصہ میں حملہ کر دینے کے ہیں۔اسے چنانچہ قرآن کریم میں دوزخ