انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 343

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القران (۶) ہے۔غرض وہ عجیب زمانہ تھا۔اسی طرح سلیمان پر خدا تعالیٰ نے ایک اور مہربانی کی اور وہ یہ کہ جن اُن کے حوالے کر دیئے جو اُن کے اشارے پر کام کرتے۔جب چلتے تو پرندے اُن کے سر پر اپنے پر پھیلا کر سایہ کر دیتے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نَعُوذُ بِاللهِ حضرت داؤد بڑے شکی طبیعت کے آدمی تھے۔جب کہیں باہر جاتے تو اپنی بیویوں کو گھر میں بند کر کے جاتے۔ایک دفعہ گھر میں آئے تو دیکھا کہ ایک جوان مضبوط آدمی اندر پھر رہا ہے۔وہ اُسے دیکھ کر سخت خفا ہوئے اور کہنے لگے۔تجھے شرم نہیں آتی کہ اندر آ گیا ہے۔پھر اُس سے پوچھا کہ جب مکان کے تمام دروازے بند تھے تو تو اندر کس طرح آ گیا ؟ وہ کہنے لگا میں وہ ہوں جسے دروازوں کی ضرورت نہیں۔آپ نے پوچھا کیا تو ملک الموت ہے؟ اُس نے کہا ہاں۔اور یہ کہتے ہی اُس نے آپ کی جان نکال لی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب دفن کرنے لگے تو تمام پرندے اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے آپ پر اپنے پروں سے سایہ کیا۔کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام تمام پرندوں کی بولیاں جانتے تھے۔کسی نے کہا کہ کیا جانوروں کی بولیاں جانتے تھے یا نہیں ؟ تو مفسرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ جانتے تو تھے مگر اختصار کے لحاظ سے صرف پرندوں کا ذکر کیا گیا ہے۔کہتے ہیں ایک دفعہ بارش نہ ہوئی تو لوگوں نے حضرت سلیمان سے کہا چلیں استسقاء کی نماز پڑھائیں۔حضرت سلیمان نے کہا کہ گھبراؤ نہیں بارش ہو جائے گی۔کیونکہ ایک چیونٹی پیٹھ کے بل کھڑی ہو کر کہہ رہی تھی کہ خدایا! اگر بارش نہ ہوئی تو ہم مر جائیں گی۔ایک دفعہ وہ وادی النمل میں سے گزرے تو چیونٹیوں کی ملکہ نے سب کو حکم دیا کہ اپنے اپنے پہلوں میں گھس جاؤ۔مگر مفسرین نے یہیں تک اپنی تحقیق نہیں رہنے دی انہوں نے چیونٹیوں کے قبیلوں کا بھی پتہ لگایا ہے اور کہتے ہیں جس طرح انسانوں میں مغل، راجپوت اور پٹھان وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح چیونٹیوں کی قومیں اور قبائل ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ علم آپ کے کام آئے گا کہ چیونٹیوں کے ایک قبیلے کا نام شیسان ہے جو مفسرین نے لکھا ہے۔وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کی جو سردار چیونٹی تھی وہ ایک پاؤں سے لنگڑی تھی اور اُس کا قد بھیڑ کے برابر تھا۔یہ وہ واقعات ہیں جو استعارہ اور تشبیہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مفسرین کو گھڑنے پڑے ہیں۔حالانکہ بات بالکل صاف تھی۔چنانچہ میں باری باری ہر واقعہ کو لیتا ہوں اور سب سے پہلے میں حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ لیتا ہوں۔