انوارالعلوم (جلد 14) — Page 261
انوار العلوم جلد ۱۴ (١١ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات میں مار کر اپنی ماں سے چمٹ گیا ہو اور اُس نے کہنا شروع کر دیا ہو کہ میرا باپ پاگل ہو گیا ہے، اُس بچہ نے یہ نہیں کیا کہ ہاتھ جوڑ کر باپ کے آگے کھڑا ہو گیا ہو اور رونے لگ گیا ہو کہ ابا مجھے نہ مارو مجھے ڈر لگتا ہے ، وہ دہشت کے مارے بے ہوش نہیں ہو گیا، اُس کے چہرے کا رنگ زائل نہیں ہوا بلکہ اُس نے یہ بات سن کر نہایت وقار اور نہایت متانت سے جواب دیا کہ یابَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ اے باپ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم دیا گیا ہے اُس کے کرنے میں دیر کیا ہے اور مجھ سے پوچھنے کا سوال کیا ہے میں حاضر ہوں آپ مجھے ذبح کر دیں، آپ دیکھیں گے کہ میں کوئی گھبراہٹ ظاہر نہیں کروں گا اور آپ آرام سے میرے گلے پر چھری پھیر لیں گے۔باپ اُس کو جنگل میں لے گیا اور اُسے لٹا کر چاہا کہ اُس کے گلے پر چھری پھیر دے۔اُس زمانہ میں بچوں کی قربانی دینے کی عام رسم تھی اور ایک مقصد اللہ تعالیٰ کا یہ حکم دینے سے یہ بھی تھا کہ بچوں کی قربانی کی رسم کو مٹا دیا جائے کیونکہ اس زمانہ میں قوموں میں یہ رواج تھا کہ وہ کبھی کبھی خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کیلئے اپنے بچوں میں سے کسی کو ذبح کر دیتے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس رسم کو مٹائے۔پس اس باپ نے جب اپنے بچے کو لٹا یا اور چھری نکال کر اس کے گلے پر اپنا ہاتھ رکھ کر چاہا کہ چھری چلا دے تو اللہ تعالیٰ نے معاً اپنا دوسرا کلام نازل کیا اور فرمایا۔اے ابراہیم ! تو نے اپنی بات پوری کر دی۔جا اور اب اپنے بیٹے کی جگہ ایک بکرا قربان کر دے کیونکہ اس بیٹے کو خدا تعالیٰ تیرے ہاتھ سے کسی اور طرح قربان کرانا چاہتا ہے۔جانتے ہو وہ کیا قربانی تھی؟ وہ قربانی جو بعد میں ظاہر ہوئی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جا اسماعیل اور اُس کی والدہ ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ آ کیونکہ خانہ کعبہ کی حفاظت اور اُس کی عظمت کا کام اللہ تعالیٰ ان سے لینا چاہتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل اور اُس کی ماں ہاجرہ کو اپنے ساتھ لیا اور انہیں مکہ کی جگہ چھوڑ آئے۔اُس وقت وہاں کوئی آبادی نہ تھی، ریت کا ایک میدان تھا جس میں میلوں تک نہ کھانے کیلئے کوئی چیز نظر آتی تھی اور نہ پینے کیلئے پانی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مشکیزہ پانی کا اور کھجوروں کی ایک تھیلی اُن کے پاس رکھی اور وہاں انہیں بٹھا کر واپس لوٹ آئے۔جب آپ واپس آ رہے تھے تو اپنی بیوی اور بچے کی قربانی کو دیکھ کر ابراہیم کے جذبات میں جوش پیدا ہوا اور اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے بیوی کو چونکہ انہوں نے بتایا نہیں تھا کہ وہ انہیں ہمیشہ کیلئے اس بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑے جا رہے ہیں، جب انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو