انوارالعلوم (جلد 14) — Page 260
انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایہ اہم ہدایات سے کوئی شخص مدد کیلئے اُٹھے۔آپ نے پھر اُن مُردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونکنے کی کوشش کی۔پھر اسلام کے متعلق تقریر کی اور جب اپنی تقریر کو ختم کر چکے تو آپ نے پھر فرمایا کیا کوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی آواز کو پھیلانے میں میری مدد کرے۔پھر وہ تمام لوگ ساکت رہے اور پھر اس گیارہ سالہ بچہ نے دیکھا کہ مجلس میں کامل خاموشی ہے اور کوئی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے کیلئے تیار نہیں اس لئے پھر اس کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ خدا تعالی کی آواز بغیر جواب کے رہے۔وہ گیارہ سالہ بچہ پھر کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا يَارَسُوْلَ اللهِ! میں ہوں۔صلى الله آخر رسول کریم ﷺ نے جب دیکھا کہ وہی بچہ خدا تعالیٰ کی آواز کے جواب میں کھڑا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا۔یہ خدا تعالیٰ کی دین ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس سے محروم رکھتا ہے نا ممکن ہے تم میں سے وہ بچے جوا بھی گیارہ سال کی عمر کو نہیں پہنچے بلکہ اُن کی سات یا آٹھ سال عمر ہے وہ اس واقعہ کوسن کر کہیں کہ ابھی تو ہم اس عمر کو نہیں پہنچے جس عمر میں قربانی کرنا انسان کیلئے واجب ہوتا ہے اور شاید وہ قربانی کرنا ان لڑکوں کا حق سمجھیں جو بڑی عمر یا کم از کم گیارہ سال عمر رکھتے ہوں اس لئے میں ایک ایسے بچے کا بھی تمہیں واقعہ سناتا ہوں جو اُسی عمر کا تھا جس عمر کے تم میں سے اکثر بچے ہیں۔اس بچے کا ماں باپ اپنی عمر کے نوے برس گزار چکا تھا کہ اس کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔جب وہ لڑ کا پانچ چھ سال کی عمر کو پہنچا تو اس کے باپ نے رؤیا دیکھا کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر رہا ہوں۔اُس لڑکے کے باپ کو خدا تعالیٰ کی باتوں پر بڑا یقین تھا اور اُس نے اکثر خدا تعالیٰ کا کلام اُترتے اور اُسے سچا ہوتے دیکھا تھا اس رؤیا کی بھی تعبیر تھی اور اس کا اصل مطلب در حقیقت کچھ اور تھا مگر وہ خدا تعالیٰ پر بڑا یقین رکھنے والا انسان تھا اور اُس نے کہا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے خواب میں ایک نظارہ دکھایا ہے میں اُسی طرح کروں گا اور اگر خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہے تو وہ آپ اُس سے آگاہ کر دے گا۔مگر اُس نے سمجھا کہ یہ میری قربانی نہیں بلکہ میرے بچے کی قربانی ہے اور میرے اکیلے کا حق نہیں کہ میں آپ ہی اس پر عمل شروع کر دوں۔بہتر ہے کہ میں اپنے بچے کے سامنے بھی اس کا ذکر کروں۔وہ بچہ پانچ چھ سال کی عمر کا تھا، جب باپ چلتا تو وہ دوڑ کر اُس کے ساتھ قدم ملا سکتا تھا، معمولی رفتار کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتا تھا، اس باپ نے اپنے بچے کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹے ! میں نے خواب دیکھا ہے اور وہ یہ کہ میں تجھ کو خدا تعالیٰ کیلئے ذبح کر رہا ہوں ، اب تو بتا تیری کیا صلاح ہے؟ اس بچہ نے آگے سے یہ نہیں کیا کہ زور سے چیخ