انوارالعلوم (جلد 14) — Page 120
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت زیادہ ہے کہ دشمن بھی اس پر حیران ہے لیکن باقی شعبوں میں ابھی اس پابندی کی ضرورت ہے۔اور اس تحریک کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ افرادِ جماعت کو ایک نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادت ڈالی جائے۔چندوں کے لحاظ سے تو ہماری جماعت کو مشق ہے۔گو اس میں بھی ابھی اور مشق کی ضرورت ہے لیکن باقی کاموں میں جو جسمانی اور عقلی ہوتے ہیں جماعت سے کوتا ہی ہو جاتی ہے اور جب مطالبہ کیا جاتا ہے تو جماعت کے افراد اس میں رہ جاتے ہیں۔مثلاً میں نے چندہ کے طور پر ساڑھے ستائیں ہزار روپیہ کی تحریک کی تو ایک لاکھ سات ہزار آٹھ سو اڑتالیس روپیہ کا جماعت نے وعدہ کیا اور ۹۵ ہزار سے کچھ زیادہ وصول بھی ہو گیا۔لیکن جب میں نے افراد سے مطالبہ کیا کہ دس ہزار احمدی اپنے آپ کو اس غرض کیلئے پیش کریں کہ انہیں تبلیغ کیلئے باہر بھیجا جا سکے تو بجائے دس ہزار کے صرف چار یا پانچ سو ایسے آدمی تھے جنہوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔اب چندہ ساڑھے ستائیس ہزار مانگا گیا تو جماعت نے ایک لاکھ سے زیادہ کا وعدہ اور ۹۵ ہزار نقد جمع کر دیا۔گو یہ بھی الہی تصرف کے ماتحت تھا کیونکہ ضرورت ساڑھے ستائیس ہزار سے بہت زیادہ روپیہ کی پڑ گئی بلکہ ابھی اپریل تک اسی روپیہ سے کام چلانا ہے۔مگر بہر حال چندہ میں ایک نمایاں فرق تھا۔اور جتنا مطالبہ کیا گیا اس سے چار گنا زیادہ رقم جماعت نے جمع کر دی۔لیکن جب تبلیغ کیلئے افراد کا مطالبہ کیا گیا تو ہیں گنا کم اس مطالبہ کو پورا کیا گیا ، جو ثبوت ہے اس بات کا کہ ابھی جماعت کو پوری طرح ایک نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادت نہیں۔اس نقص کی وجہ سے جس بات کی انہیں عادت ہے وہ کام تو کر لیتے ہیں لیکن جس کام کی عادت نہیں ، اس میں رہ جاتے ہیں۔میری غرض تبلیغ کو اس رنگ میں وسیع کرنے سے یہ ہے کہ ملک میں ایک شور پڑ جائے اور ہر کوئی جاگ اُٹھے۔پھر یہ بھی مقصد ہے کہ اس طرح جب ہماری جماعت کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ماتحت کام کرنا پڑے گا تو انہیں ماتحتی کی عادت ہو جائے گی۔اور نظام کے ماتحت وہ نہایت سہولت کے ساتھ کام کرتے چلے جائیں گے۔تحریک کے ماتحت جو تبلیغ ہو رہی ہے، اس میں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو تنخواہ میں کم اور لیاقت میں بھی دوسروں سے کم ہوتا ہے پہلے تبلیغ کیلئے جاتا ہے اور اسے وہاں کا امیر مقرر کر دیا جاتا ہے اور جو لوگ زیادہ علم رکھنے والے یا زیادہ پوزیشن رکھنے والے ہوں، انہیں اس کے ماتحت کر دیا جاتا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جماعت کے احباب کو جہاں نظام کے ماتحت کام کرنے کی عادت پڑے گی ، وہاں ناجائز بڑائی کی عادت بھی جاتی رہے گی۔اور وہ اپنی برتری کے خیال