انوارالعلوم (جلد 14) — Page 119
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت اس کے بگڑنے سے بہت زیادہ خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔لیکن اگر بہت سے نسخے ہوں تو کسی میں اگر بگاڑ بھی پیدا ہو تو اس کی اصلاح کی جاسکتی ہے۔اسی طرح اگر ایک ہی مرکز ہو تو اس کے بگڑ نے سے صحیح تعلیم کا میسر آنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پاک اور مصفی تعلیم کے بہت سے مرا کز دنیا کے مختلف گوشوں میں قائم کر دئیے جائیں تا جہاں خرابی پیدا ہو جائے ، اس جگہ کی دوسرے مرکز اصلاح کر سکیں ، تو صحیح تعلیم دنیا کو ہر وقت میسر آ سکے گی۔جیسے آج قرآن مجید پر گو کفار اور کئی اعتراض کرتے ہیں لیکن وہ اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ صحابہ کے زمانہ میں ہی قرآن مجید کی تعلیم یورپ اور دنیا کے دوسرے کونوں میں پہنچ گئی تھی۔اور اس وجہ سے با وجود قرآن مجید کے معانی پر اعتراض کرنے کے وہ اس کی لفظی صحت اور درستی سے انکار نہیں کر سکتے۔اسی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم دنیا کے مختلف حصوں میں اس کی اصلی شکل میں پہنچا دیں۔ہو بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم وہی ہے جو آپ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے۔مگر کئی باتیں ایسی ہیں جو جماعت احمدیہ کے تعامل سے معلوم ہوتی ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سنت کے متعلق بتایا کہ یہ اُن عملی کا رروائیوں کو کہا جاتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے احکام کی تشریح کیلئے کیں۔اسی طرح کتابوں کے علاوہ جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مکمل تعلیم موجود ہے کئی باتیں ایسی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے عمل سے معلوم ہوتی ہیں۔اور اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ہماری زندگیوں میں ہی مختلف ممالک میں احمدیت کی تعلیم کے مرکز قائم ہے جائیں۔پس قریب سے قریب زمانہ میں دُور سے دُور علاقوں میں مراکز احمدیت قائم کرنا تحریک جدید کا ایک مقصد ہے۔میرے مد نظر یہ ہے کہ افرادِ جماعت کو ایک نظام کے ماتحت کام کرنے کی چھٹا امر عادت ڈالی جائے۔نظام کی پابندی کی عادت ایک حد تک ہماری جماعت کے اندر پائی جاتی ہے۔مگر ابھی اس میں وسعت کی ضرورت ہے اور ابھی یہ عادت بعض حدود میں مقید ہے۔مثلاً ہماری جماعت میں چندہ کا نظام تو ایسا ہے کہ دنیا اس پر حیران ہے۔جس احمدی کے حالات کا بھی جائزہ لیا جائے معلوم ہوگا کہ وہ آنہ یا پیسہ فی روپیہ ضرور چندہ دیتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہماری جماعت میں چندہ دینے میں کمزور لوگ نہیں ہیں مگر مخلصین کی تعداد اتنی