انوارالعلوم (جلد 14) — Page 110
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت خرچ کرے اسلام اور احمدیت کیلئے خرچ کرے ، مگر کسی صورت میں غربت و امارت میں امتیاز قائم نہ ہونے دے۔تیسرا اصل اس تحریک میں میں نے یہ مدنظر رکھا ہے کہ جہاں تک ہو سکے مغربیت کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کی جائے۔مغربی اثر اس وقت دنیا پر غالب آیا ہوا ہے اور میری رائے میں اسلام کو اتنا نقصان عیسائیت سے نہیں پہنچا جتنا مغربیت سے پہنچ رہا ہے۔لیکن مغربیت مذہب سے علیحدہ چیز ہے اور میرا ارادہ ہے کہ کسی خطبہ میں بتاؤں کہ مغربیت کیا چیز ہوتی ہے۔اس وقت میں ایک موٹی مثال دے دیتا ہوں جس سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ مغربیت اور اسلام میں کیا فرق ہے۔اسلام کی طرف دیکھو وہ ایک غریب شخص سے مخاطب ہوتا ہے اور کہتا ہے اے شخص ! تو سوال نہ کر۔دوسری طرف وہ امیر سے مخاطب ہوتا ہے اور اسے کہتا ہے اے امیر ! تو بغیر مانگے کے اس غریب کو دے۔اسی طرح اسلام کہتا ہے اے مزدور ! تو باغیانہ رنگ اختیار مت کر اور دوسری طرف وہ سرمایہ دار سے کہتا ہے اے سرمایہ دار ! تو اس کا حق ادا کر۔اسے کافی مزدوری دے۔گویا اسلام غریب کے فرائض غریب کو مخاطب کر کے سناتا اور امیر کے فرائض امیر کو مخاطب کر کے سناتا ہے۔اس کے مقابلہ میں مغربیت یہ ہے کہ مزدوروں کا ایک ایجنٹ اُٹھتا اور انہیں یہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ امیر تم پر ظلم کر رہے ہیں۔وہ تمہارے حقوق کو چھینتے اور تمہیں ترقی کرنے سے باز رکھتے ہیں، ان کے خلاف بغاوت کرو۔اسی طرح ایک امیروں کا ایجنٹ اُٹھتا اور یہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ تم اس قدر دولت جمع کرو کہ سب لوگ تمہارے دست نگر ہوں۔یہ ایک موٹی مثال ہے جس سے مغربیت اور اسلام کا فرق ظاہر ہو جاتا ہے۔اسلام دونوں طرف قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کرتا ہے۔اور مغربیت دونوں طرف لوٹ اور بغاوت کا مادہ پیدا کرتی ہے۔مغربیت غریب سے کہتی ہے کہ امیر سے چھین اور امیر سے کہتی ہے کہ غریب سے چھین۔اور اسلام دونوں طرف اخلاق سے کام لینے کی تاکید کرتا اور غریب کو کہتا ہے کہ سوال نہ کر اور امیر کو کہتا ہے کہ غریب کو دے۔گویا اسلام قربانی سکھاتا ہے مگر مغربیت ایک جہنم کا نمونہ ہے جس میں هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ کے سوا اور کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔اگر دنیا مغربیت کے پیچھے جائے تو اس کا سوائے اس کے اور کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ لڑائی اور فساد بڑھے۔لیکن اسلام اس قسم کی تعلیم دیتا ہے جو امن کو بڑھاتی اور محبت واخوت قائم کرتی ہے۔پس مغربیت کے نقطہ نگاہ اور ہمارے نقطہ نگاہ میں بہت بڑا فرق ہے۔ہم صرف یہ چاہتے