انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 93

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت اور لوگوں میں تقسیم کرنے کیلئے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔گزشتہ ایام میں جیسا کہ میں نے اعلان کرایا تھا، آج کل جو قر آن مجید کا درس میں دے رہا ہوں ، اس کے متعلق میرا ارادہ ہے کہ وہ مکمل اخبار میں شائع ہوتا رہے۔تا کہ وہ اس تفسیر کا قائم مقام ہو جو کتابی صورت میں بعد میں شائع کی جائے گی بلکہ بعض حالتوں میں اس کا فائدہ زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ درس میں آیت کا ٹکڑرہ ٹکڑہ لے کر اس کی تفسیر کی جاتی ہے اور اس طرح تفصیل کے ساتھ وہ باتیں بیان ہو جاتی ہیں جو اگر کتاب کی صورت میں درس لکھا جائے تو اس قدر تفصیل سے انسان بہ خوف طوالت اجتناب کرتا ہے۔الفضل میں اس کے متعلق اعلان ہوتا رہا ہے اور اس کے کچھ خریدار بھی پیدا ہو گئے ہیں۔جنوری سے یہ درس انشاء الله اخبار میں چھپنا شروع ہو جائے گا۔چوہدری صادق علی صاحب ریٹائر ڈ تحصیلدار جو ایک نہایت مخلص احمدی ہیں ، انہیں میں نے اس بات پر مقرر کیا ہے کہ وہ اس کی ادارت کا فرض ادا کریں۔دوران جنوری میں اِنشَاءَ اللهُ تعالی اس درس کی پہلی اشاعت ہوگی۔جو دوست اس کے خریدار بنیں گے انہیں ہفتہ میں ایک بار چار صفحہ کا ضمیمہ اخبار میں بھیجا جائے گا۔چھ ماہ کے لئے اس ضمیمہ کی قیمت صرف تیرہ آنے رکھی گئی ہے جو کچھ زیادہ نہیں۔جود وست قرآن کریم کے سمجھنے اور اس کے معارف کو حاصل کرنے کی اپنے دل میں خواہش رکھتے ہوں ، ان کے لئے یہ درس بہت کچھ مفید ہو سکتا ہے۔پھر ”سٹار ہوزری ورکس کے متعلق میں سفارش کرتا ہوں۔ہوزری کا کارخانہ جب جاری کیا گیا تھا تو جماعت کے روپیہ سے جاری کیا گیا تھا۔پس یہ کارخانہ جماعت کے دوستوں کے روپیہ سے بنا ہے، کسی ایک کا کارخانہ نہیں اور جو چاہے اب بھی اس کے حصص خرید سکتا ہے لیکن میں نے اُسی وقت اعلان کر دیا تھا کہ جب یہ کارخانہ جماعت کے روپیہ سے جاری ہو جائے گا تو تمام دوستوں کو چاہئے کہ کارخانہ جاری ہونے کے بعد اسی ” ہوزری کی تیار کردہ جرا میں خریدیں سوائے اس کے کہ ان کے ناپ کی جراب تیار نہ ہو۔لیکن اگر ان کے ناپ کی جراب تیار ہو تو پھر ان کا فرض ہے کہ یہیں سے جرا ہیں خریدیں اور خواہ وہ دوسری جرابوں کے مقابلہ میں خراب دکھائی دیں پھر بھی یہی جرا میں پہنیں اور ان سے تعاون کریں۔ترقی کرنے والی قومیں ہمیشہ اس قسم کی قربانیاں کیا کرتی ہیں۔جاپان نے جب ابتداء میں جرا میں بھیجنی شروع کیں تو بہت کچھ ناقص تھیں۔انسان آٹھ انچ کی جراب پہنتا تو اُتارتے وقت سولہ انچ کی ہو جاتی اور بعض دفعہ ڈھیلی ہو کر بوٹ میں آجاتی۔مجھے یاد ہے میں