انوارالعلوم (جلد 14) — Page 83
انوارالعلوم جلد ۱۴ اسلام اور احمدیت کے متعلق عظیم الشان پیشگوئی دیکھو کہ اس کی بے تاب ماں بال بکھیرے ہوئے اور کپڑے پھاڑے ہوئے دیوانہ وار اپنا سر دیوار سے ٹکرا ٹکرا کر اس لئے ہلاک ہونا چاہتی ہے کہ اس کا اکلوتا بچہ گم ہو گیا۔اُس وقت تم اس کا بچہ اس کی گود میں دے دو تو اس عورت کو جو خوشی ہوگی وہ تو ہو گی ہی خیال کرو، تمہارا قلب کس قدر اس لئے خوشی سے بھر جائے گا کہ تم نے اس گھر میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچو کہ دنیا کے کروڑوں گمراہ انسان ایسے ہی ہیں جیسے ماں سے کھوئے ہوئے بچے۔ان کو اگر لا کر خدا تعالیٰ کے پاس حاضر کر دو تو اُس وقت خدا تعالیٰ کو جو خوشی ہوگی ، اس کا تو ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے لیکن اُس وقت ہمارے دل بھی ایسی خوشی سے لبریز ہو جائیں گے کہ اس کا مقابلہ کوئی اور خوشی نہیں کر سکتی۔ہمارا رب ، رب العلمین ہے ہمارا ایک ایک ذرہ اس کا پیدا کیا ہوا ہے مگر آج اسی کے فضل سے ہمیں ایسا مقام حاصل ہے جس پر ہم جتنا بھی شکر کریں تھوڑا ہے کیونکہ آج ہمیں وہ پوزیشن حاصل ہے کہ ہمارے مالک و خالق خدا کی مثال اُس عورت کی سی ہے جس کا بچہ کھویا گیا یا اس شخص کی سی ہے جس کا اونٹ گم ہو گیا مگر ہماری مثال اُس شخص کی ہے جو گم ھند ہ بچہ واپس لا کر دیتا ہے یا گمشدہ اونٹ ڈھونڈ کر لاتا ہے اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو خود ہدایت دے سکتا ہے جیسا کہ وہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو تمام کو ہدایت دے دیں مگر وہ اپنے بندوں کو بھی اس خوشی میں شامل کرنا چاہتا ہے اور آج اس خوشی میں شامل ہونے کا موقع تیرہ سو سال کے بعد اس نے ہم کو دیا ہے۔یہ کتنا بڑ افضل اور رحم ہے کہ وہ کام جس سے صدیاں خالی چلی گئیں بغیر ہمارے کسی کمال یا بغیر ہماری کسی کوشش یا بغیر ہماری کسی قربانی کے اُس نے ہمارے سپر د کر دیا۔مبارک ہیں وہ مائیں جنہوں نے صحابہ پیدا کئے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر نکل کھڑے ہوئے تا کہ خدا تعالیٰ کے بُھولے بھٹکے بندوں کو لائیں اور خدا تعالیٰ سے ملا ئیں۔اسی طرح مبارک ہیں وہ مائیں جنہوں نے وہ بچے پیدا کئے جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور جن کے سپر دو ہی کام ہوا جو صحابہ کرام نے کیا تھا۔اس کام کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ہماری کوششوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص ان نتائج کو ذہن میں نہیں لا سکتا جو ہمارے ذریعہ دنیا میں پیدا ہونے والے ہیں اور آج ہمارے کام کو اس لئے حقیر سمجھا جاتا ہے کہ دنیا کے نزدیک اس کا پورا ہونا ناممکن ہے۔آج کون مان سکتا ہے کہ یورپ دہریت کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھک جائے گا کون مان سکتا ہے کہ