انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 58

۵۸ انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے تھیں وہ تمام اس نے کاغذ پر لکھ دیں اور سمجھ لیا کہ اب میں نے خوب اسے جکڑ لیا ہے اور اسے میرا ہر کام کرنا پڑے گا۔اتفاق ایسا ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد وہ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جار ہا تھا نوکر ساتھ تھا کہ گھوڑا پدک کر بھاگا آقا گر پڑا اور اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا۔اس نے شور مچایا اور نوکر سے کہا کہ مجھے بچاؤ مگر نوکر نے کاغذ نکال کر کہا سر کار دیکھ لیجئے اس میں یہ کام نہیں لکھا۔تو ادب اور بنی نوع انسان کی محبت نہایت وسیع مضامین ہیں اتنے وسیع کہ خدا کی کتاب نے بھی انہیں تفصیل سے بیان نہیں کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا کو ان باتوں کا علم نہیں۔علم ہے لیکن اگر وہ بیان کرتا تو اتنی ضخیم کتاب ہو جاتی کہ قیامت تک پڑھنے کے باوجود انسان اسے مکمل طور پر نہ پڑھ سکتا۔پس میں اس بات کے سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ وہ سوشل تعلقات جو افراد میں پائے جاتے ہیں اور جن کو اسلام نے قائم کیا ہے ان کے بارے میں ہم میں کسی قسم کا امتیاز ہو اور اگر ہے تو یقیناً اس امتیاز کو قائم نہیں رہنا چاہئے۔میں نہیں جانتا یہ دعوت جو تھی کیوں اور کن حالات کے ماتحت کلرکوں تک ہی محدود رہی اگر کلرکوں کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس موقع پر خان صاحب کوئی پارٹی دینی چاہئے تو کیا وجہ ہوئی کہ انہوں نے اپنے افسروں کو اس میں شامل نہ کیا۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں انہیں قصور وار سمجھتا ہوں میں ان پر الزام نہیں رکھتا صرف اپنی حیرت کا اظہار کرتا ہوں کہ کیا اس کا موجب یہ خیال ہوا کہ انہوں نے سمجھا اگر ہم یہ سوال اٹھائیں گے تو ممکن ہے جو افسر سمجھے جاتے ہیں کہیں کہ ہم اس میں کیوں حصہ لیں۔یا یہ کہ انہیں اس امر کا خیال ہی نہیں آیا کہ افسروں کو بھی شریک کیا جائے۔اگر انہیں خیال نہیں آیا تب بھی قابلِ افسوس بات ہے کیونکہ اس کی بھی کوئی وجہ ہو سکتی ہے اور اگر امتیاز سمجھا گیا، تب تو قابل افسوس بات ہے ہی۔ذاتی طور پر میں ہمیشہ حیران رہا ہوں کہ خلافت کو چھوڑ کر دو محکمے ایسے ہیں جنہیں ایسے موقع پر جب کوئی مبلغ باہر سے آئے اور وہ ایسا مبلغ ہو جس کی خدمات اسلام کی ترقی کیلئے ہوں اور اس کا اعزاز جماعت پر واجب ہو، اس کی دعوت میں حصہ لینا چاہئے مگر دونوں محکموں نے آج تک اس میں حصہ نہیں لیا اور مجھے ہمیشہ حیرت رہی ہے کہ جن دو محکموں کا یہ فرض ہے کہ وہ باہر سے آنے والے مبلغین کا اعزاز کریں، وہی دو محلے ہمیشہ لا پرواہ رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی بحیثیت محکمہ اس میں حصہ نہیں لیا۔جب کوئی مبلغ باہر جاتا یا تبلیغ کے بعد قادیان واپس آتا ہے تو میں دیکھتا ہوں، تعلیم الاسلام ہائی سکول، مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ اس کے اعزاز میں حصہ لیتے ہیں۔بعض ذاتی دوست