انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 57

انوار العلوم جلد ۱۳ ہمارے تمام کاموں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تو کل پر ہونی چاہئے میں اور اسلامی طریق عمل کے ہوتے ہوئے ہمارے سوشل اور تمدنی تعلقات میں افسر اور ماتحت کا کوئی امتیاز ہے۔میری طبیعت نظام کے بارے میں جتنی سخت ہے اسے سب لوگ جانتے ہیں۔اطاعت ایک امیر کی یا اطاعت ایسے مامور کی جس کے لئے اطاعت کا مقام مقرر کیا گیا ہؤا یسی چیز ہے جسے میں اسلام کی ترقی اور سلسلہ کی بہبودی کیلئے نہایت ضروری خیال کرتا ہوں مگر با وجود اس کے کہ اطاعت کے معاملہ میں میں ایسا شدید ہوں کہ بعض لوگوں کو مجھ سے شکایت بھی پیدا ہوئی ہوگی اور ہونی چاہئے اور باوجود اس بات کے جاننے کے کہ اس معاملہ میں میں نہایت ہی سخت گیر واقع ہوا ہوں اب تک بھی میں اس امر پر قائم ہوں کہ اگر پھر کبھی مجھے نظام سلسلہ کے متعلق کسی امر کا فیصلہ کرنا پڑے تو میں اپنے پچھلے طریق عمل کو بدلنے کے لئے تیار نہیں۔میں اسلام کیلئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے آج بھی نظام سلسلہ کی پابندی اسی طرح ضروری سمجھتا ہوں جس طرح آج سے پہلے ضروری خیال کرتا تھا اور اگر آج یا کل یا پرسوں یا آج سے دس سال کے بعد بھی مجھے ضرورت پیش آئے تو اطاعت کے معاملہ میں نہ صرف یہ کہ آگے سے کم سختی نہ کروں بلکہ اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ تربیت پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اور اب تک مکمل اصلاح ہو جانی چاہئے تھی، شاید پہلے سے بھی زیادہ بختی کروں لیکن باوجود اس کے میں خیال نہیں کرتا کہ تمدنی معاملات میں ہمارے درمیان کوئی امتیاز ہے۔جب تک کوئی کام ایک نظام کے ماتحت ہوتا ہے، ایک آمر اور ایک مامور ہوتا ہے اس وقت تک امتیاز قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے مگر جو نہی سوشل تعلقات کا وقت آ جاتا ہے یہ تمام امتیازات ختم ہو جاتے ہیں اور اس وقت یہ اصل ہمارے درمیان قائم ہو جاتا ہے کہ اسلام کسی امتیاز کو تسلیم نہیں کرتا سوائے اس امتیاز کے جوادب کا امتیاز ہے۔یا سوائے اس امتیاز کے جو محبت کا امتیاز ہے۔یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جو کسی قانون کے ماتحت نہیں آتیں۔کوئی قانون دنیا میں ادب کے امتیاز کی حد بندی نہیں کر سکتا اور کوئی قانون دنیا میں محبت کے امتیاز کی حد بندی نہیں کر سکتا اس لئے کہ قانون محدود الفاظ میں ہوتا ہے لیکن ادب اور محبت نہایت وسیع حلقہ رکھتے ہیں۔بچپن میں ہم ایک کہانی پڑھا کرتے تھے کہ کوئی شخص تھا جو نہایت سخت گیر تھا اور ہمیشہ اپنے نوکروں سے ایسے کاموں کا تقاضا کرتا جو ان کے فرائض میں شامل نہ ہوتے اور جب وہ انہیں سرانجام نہ دے سکتے تو نکال دیتا۔آخر اپنے جیسا ہی اسے ایک نو کر مل گیا۔اس نے آتے ہی کہا حضور میں آپ کی ہر خدمت کرنے کیلئے تیار ہوں مگر پہلے مجھے کاغذ پر لکھ دیں کہ میرے کیا کیا فرائض ہیں۔آقا کے ذہن میں جس قدر باتیں آ سکتی د