انوارالعلوم (جلد 13) — Page 494
494 انوار العلوم جلد ۱۳ لئے بھی میں مذکورہ بالا شرائط اور مذکورہ بالا ثالثوں میں سے کسی ایک کو پیش کرتا ہوں۔کیا میں امید کروں کہ مجلس احراران امور کے لئے مذکورہ بالا شرائط کے ماتحت مذکورہ بالا لوگوں میں سے کسی ایک سے فیصلہ کرانے کو تیار ہو گی ؟ یہ لوگ سب کے سب غیر احمدی ہیں اور احرار کے ہم مذہب ہیں اور مسلمانوں کے مسلمہ لیڈر ہیں۔اور ان میں سے کسی ایک کی نسبت بھی یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ احرار کے مقابل پر میری رعایت کریں گے۔بلکہ ہر انصاف پسند تسلیم کرے گا کہ میں نے گویا خود احرار کے اپنے ہم مذہبوں کے سپردان امور کا فیصلہ کر دیا ہے۔مگر اس فیصلہ کے لئے یہ شرط ہو گی کہ تحریری صورت میں بادلائل دیا جائے اور دونوں فریق کے دلائل کو نقل کر کے وجوہ فیصلہ لکھی جائیں اور دونوں فریق کو ایک ایک نقل اس کی فوراً دے دی جائے تا کہ بعد میں اس فیصلہ کو شائع کیا جا سکے۔برادران ! میں اس بارہ میں جو کچھ کر سکتا تھا وہ میں نے کر دیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے خوف کو دل میں رکھ کر انصاف سے کام لیں گے اور احرار کی اس دھوکہ دہی کا ازالہ کریں گے کہ وہ لوگوں کو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے گریز کرتے ہیں جو بالکل جھوٹ اور غلط ہے۔ہم اب بھی مباہلہ کے لئے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے دونوں فریق کے نمائندے آپس میں تحریری طور پر شرائط طے کر لیں۔اور مجلس مباہلہ کے لئے ایک مسلمه فریقین صدر مقرر ہو جاوے جو اس امر کا ذمہ وار ہو کر مسلمہ فریقین شرائط کی پابندی کی جائے گی اور مباہلہ لاہور یا کسی ایسے مقام پر جوطرفین کے لئے پر امن اور مناسب ہو وقوع میں آ جائے۔لیکن اگر اب بھی احرار کو قادیان میں مباہلہ ہونے پر اصرار ہو تو پھر اس صورت میں انہیں چاہیئے کہ میری شائع کردہ شرائط کے ماتحت سمجھوتہ کر لیں۔اس صورت میں ہم ان کے ساتھ مل کر حوحکومت کو لکھ دیں گے کہ مباہلہ قادیان میں دونوں فریق کی ذمہ واری پر ہوگا۔اور کسی قسم کی بدنظمی کا خطرہ نہ ہوگا۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو آؤ یوں کر لیں کہ فریقین مباہلہ کے الفاظ کی تعیین کرلیں اور دونوں فریق اپنے اپنے الفاظ پر دستخط کر کے ایک دوسرے کو دے دی تا کہ رسالہ کی صورت میں اسے شائع کر دیا جائے۔آخر مباہلہ کی دعا خواہ تحریر میں آئے یا زبانی کی جائے ایک سا اثر رکھتی ہے۔اور خدا تعالیٰ جس طرح منہ کی باتیں سنتا ہے قلم کی تحریر سے بھی آگاہ ہوتا ہے۔لیکن اگر ان سب باتوں کے باوجود احرار مباہلہ پر تیار نہ ہوں لیکن غلط بیانی سے