انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 418

418 انوار العلوم جلد ۱۳ جواب : اکثر چھپتے ہیں بعض نہیں بھی چھپتے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان سوال: جو چھپتے ہیں۔ان کے متعلق یہ شکایت تو نہیں پیدا ہوتی کہ غلط ہیں۔جواب: کئی دفعہ یہ شکایت پیدا ہوئی ہے کہ فلاں غلطی ہوگئی۔سوال: اگر کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو دوسرے پرچہ میں اسے دور کر دیا جاتا ہے۔جواب: بعض دفعہ بہت دیر کے بعد غلطی کا علم ہوتا ہے۔اگر کسی غلطی کے متعلق سمجھا جائے کہ اصلاح ضروری ہے تو ہو جاتی ہے اور نہ غلطی رہ بھی جاتی ہے۔میں دوسرے خطبہ یا مجلس میں بیان کر دیتا ہوں کہ فلاں بات غلط لکھی گئی ہے۔درست یوں ہے۔یہ ضروری نہیں کہ اخبار کے دوسرے ہی پرچہ میں اصلاح چھپ جائے۔سوال: جب احرار کا نفرنس ہونے لگی تھی۔انہی ایام میں آپ کے کسی مرید کی تلاشی ہوئی تھی اور اُس سے بُر چھیاں نکلی تھیں۔جواب: مجھے علم نہیں کہ کسی کی تلاشی ہوئی اور بر چھیاں نکلیں۔ایک شخص سے کھڈ سیک لی گئی تھی۔سوال: جب احرار کا نفرنس ہوئی تو اس سے پہلے یا اس وقت آپ نے لوگوں کو تحریک کی کہ بندوقیں اور تلوار میں خریدیں۔جواب: اس کا نفرنس کے قریب کے ایام میں میں نے کوئی تحریک نہیں کی کہ اسلحہ خریدیں۔سوال: ۱۹۳۰ء میں یاد ہے کہ اس قسم کی تحریک کی۔جواب: یقینی طور پر ساری بات یاد نہیں۔وہ بات پیش کی جائے تو بتا سکتا ہوں کہ کیا مطلب تھا۔سوال: یہ جناب کو علم ہو گا کہ احرار کا نفرنس کے ایام میں قادیان میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کی گئی۔جواب: میں نے لوگوں سے سنا تھا کہ جاری کی گئی ہے، کسی افسر نے مجھے نہیں بتایا تھا۔سوال: احرار کا نفرنس سے کچھ پہلے مہینہ یا ڈیڑھ مہینہ پہلے آپ نے ان کے خلاف کوئی اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔جواب: میں نے کبھی کوئی اشتعال انگیز تقریر نہیں کی۔سوال: کیا آپ نے زبردست تقریر کی تھی۔جواب: تقریر سامنے رکھی جائے تو بتا سکتا ہوں۔سوال: کیا آپ کو اتنا یاد ہے کہ احراریوں کا ذکر کر کے آپ نے کہا تھا کہ یہ چیونٹی ہیں اور ہم ہاتھی ہیں۔