انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 402

402 انوار العلوم جلد ۱۳ حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات کے لئے ساراز ور نہ لگالے اور اس کے مقابلہ میں تم ویسی ہی ثابت قدمی نہ دکھاؤ جیسی پہلے انبیاء کی جماعتیں دکھاتی رہی ہیں، اُس وقت تک تم کامیاب نہیں ہو سکتے اور نہ یہ باتیں ٹل سکتی ہیں جو تمہیں پیش آ رہی ہیں یہ باتیں بڑھیں گی۔اپنا سارا زور لگا کر دیکھ لو حکومت کے آگے ناک رگڑ کر دیکھ لو اگر اس کے پاس تم مخالفین کی گالیاں بھی لے کر جاؤ گے تو کبھی کہ دیا جائے گا یہ گالیاں نہیں اور کبھی کہہ دیا جائے گا تمہارے جیسے وسیع الا خلاق لوگ ایسی باتوں کی پرواہ نہیں کیا کرتے غرض کچھ بھی نہ کیا جائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ تم کو بیدار کیا جائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ حکام کو ان کا فرض یاد نہ دلاؤ ہمارا ان پر حق ہے اور ہم ایسا ضرور کرتے رہیں گے۔نہ میں یہ کہتا ہوں کہ مخالفین کا مقابلہ نہ کرو کیونکہ مشکلات کا مقابلہ کرنا شریعت کا حکم ہے۔میں صرف یہ کہتا ہوں کہ یہ مشکلات بڑھتی ہی جائیں گی جب تک تم وہ حالت نہ پیدا کر لو جو میں نے بیان کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔تین قسم کے لوگ ہماری جماعت میں ہیں۔ایک وہ جو مجھے خدا کا ماہور اور مُرسل سمجھ کر ایمان لائے۔دوسرے وہ جو اس لئے ایمان لائے کہ یہ ایک منظم جماعت ہے وہ صدر انجمن سے تعلق رکھتے ہیں۔تیسرے وہ جو مولوی نورالدین صاحب سے حُسنِ ظن رکھتے تھے اور ان کی وجہ سے جماعت میں داخل ہو گئے۔پھر فرمایا نجات وہی پاسکتا ہے جسے ایمان عجائز نصیب ہو۔سچا سمجھ کر وہ مانتا ہے پھر خواہ جیئے یا مرے اس ایمان پر قائم رہتا ہے۔اب تک بعض لوگ جماعت کو ان راہوں پر چلانا چاہتے ہیں جن پر انجمن حمایت اسلام والے یا علی گڑھ یو نیورسٹی والے چل رہے ہیں کہ کچھ چندہ ادا کر دیں، جلسے کر دیں اور اپنا کام ختم سمجھ کر گھروں میں بیٹھ رہیں۔مگر ایک منٹ کے لئے ہی غور کر کے دیکھ لو کیا کسی نبی کی جماعت اس رنگ میں چلی ہے جس رنگ میں اس وقت تک ہم چل رہے ہیں۔میں اس سے اپنے آپ کو اور ہزاروں دوسرے احمدیوں کو منفی کرتا ہوں مگر ہزاروں ایسے ہیں جو یہی سمجھتے ہیں اور نئے تعلیم یافتہ طبقہ کا بیشتر حصہ ایسا ہے جو کہتا ہے بیرونی ممالک میں مشن قائم کئے جاتے ہیں، کیا یہاں کام تھوڑا ہے۔مگر کیا نبیوں کی قائم کردہ کوئی جماعت ایسی ہوئی ہے جو صرف اپنے گھر میں تنظیم کر کے کامیاب ہوئی ہو۔نبیوں کے ماننے والے پاگلوں اور مجنونوں کی طرح دنیا میں پھیل گئے اور ہر قسم کی مشکلات اور مصائب میں انہوں نے اپنے آپ کو ڈالدیا اور اب بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں پاگل بنا پاگل کہلا نا اور پاگلوں والے کام کرنا ہوگا وہ تمام قربانیاں کرنی پڑیں گی جو پہلوں نے کیں، اپنی جانوں کی کوئی حقیقت نہیں سمجھنی ہوگی نہ اپنے مالوں