انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 352

انوار العلوم جلد ۱۳ 352 افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۴ء گا۔ہماری حالت تو وہی ہے کہ کسی نے کہا ہے:۔ہم بھی لہو لگا کے شہیدوں میں مل گئے غرض ہماری لہو لگانے والی بات ہے۔مگر افسوس ہوگا اگر لہو لگانے میں بھی ہم میں سے کوئی کمزوری دکھائے، تلوار چلانا اور اپنا خون پیش کرنا تو بڑی بات ہے۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو تھوڑی بہت قربانی کا موقع انہیں مل رہا ہے، اس سے انہیں اخلاص، محبت، جرات اور استقلال سے فائدہ اُٹھانا چاہئے تا کہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل نازل ہوں ، اس کی خاص برکتیں حاصل ہوں اور ہم ترقی کے اُس مقام پر پہنچ سکیں جس پر پہنچنا ہمارے لئے ضروری ہے۔اس کے بعد ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ دعائیہ الفاظ لکھ کر دیئے ہیں جو آپ نے جلسہ پر آنے والوں کے متعلق تحریر فرمائے ہیں۔میں وہ سناتا ہوں اور پھر خود بھی دعا کروں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ہر ایک صاحب جو اس لکھی جلسہ کیلئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان تہی کیساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات اُن پر آسان کر دے اور اُن کے ہم وغم دور فرما دے اور اُن کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دے اور روزِ آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اُٹھا دے جن پر اُس کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفران کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے خدا! اے ذوالحجد والعطا ء اور رحیم اور مشکل گشا ! یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر یک قوت اور طاقت تجھ ہی کو ہے۔آمین ثم آمین یہ اس جلسہ میں شامل ہونے والوں کیلئے دعا ہے۔میں بھی اسی اصل پر اس جلسہ کا افتتاح کروں گا۔باقی اصل افتتاح تو اللہ تعالیٰ نے ہی کیا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُّوحِي إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ ۵ یعنی تیری مد دوہ کریں گے جن کو الہام ہوگا۔پس جو بھی یہاں آتا اور جلسہ میں شامل ہوتا ہے وہ وحی پاتا ہے۔گو اس کے کانوں نے وحی کی آواز کو نہ سنا مگر اُس کے دل نے سنا اور وہ خدا تعالیٰ کی وحی کا مورد ہوا۔پس میں دعا کرتا ہوں کہ جلسہ میں شامل ہونے والے احباب پر خدا تعالیٰ خاص برکات نازل کرے۔ان کے نیک ارادے پورے کرے اور ان کے اس اخلاص اور اس خدمت کو قبول کر کے انہیں دین