انوارالعلوم (جلد 13) — Page 333
333 انوار العلوم جلد ۱۳ سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق سردار صاحب! اب میں ان باتوں کو لیتا ہوں جو خود آپ نے یا آپ کے ساتھیوں نے کہی ہیں۔اور سب سے اول تو میں آپ کی اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہتا ہوں جو احمدیوں کے مظالم کے متعلق آپ کو لگی ہے۔آپ نے بیان کیا ہے کہ آپ نے خوب تحقیق کر لی ہے کہ احمدی سکھوں پر سخت ظلم کرتے ہیں۔میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کی تحقیق بالکل غلط ہے۔احمدی سکھوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنا بھائی سمجھتے ہیں اور اگر آپ اس علاقہ کے سکھوں سے فرداً فرداًوہ قسم دیگر جسے پنجابی میں دودھ پت کی قسم کہتے ہیں پوچھیں، تو ان میں سے ننانوے فیصدی آپ کو یہ بتائیں گے کہ میں اور میرا خاندان اور میرے ساتھ تعلق رکھنے والے ہمیشہ سکھوں سے محبت کا برتاؤ کرتے چلے آئے ہیں اور جو کوئی مصیبت زدہ ہمارے پاس آیا ہے ہم نے ان کی مدد کی ہے۔بالکل ممکن ہے کہ بعض نادان احمدیوں نے بعض سکھوں سے ناواجب سلوک کیا ہولیکن ان سے پوچھیں کہ جب کبھی میرے پاس ایسی رپورٹ ہوئی اور میں نے احمدی کو خطا وار پایا، میں نے اسے سزادی یا نہیں دی۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ ایک احمدی نے اپنی کتاب میں حضرت باوا صاحب کے متعلق کچھ الفاظ سو عواد بی کے لکھ دیئے تھے میرے پاس سکھوں کا وفد آیا تو میں نے نہ صرف یہ کہ اُس احمدی کو سخت سرزنش کی، بلکہ اُس کی اس کتاب کو ضبط کر لیا اور وہ صفحات تلف کروائے جو سکھ صاحبان کیلئے دل آزار تھے۔اردگرد کے سکھوں کو آپ قسم دے کر پوچھیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ان کی خاطر پندرہ سال تک میں نے قادیان میں مدیح نہیں بننے دیا اور اب بھی مذبح صرف چند نادانوں کی نادانی کی وجہ سے بنا ہے ورنہ میں نے ہندو اور سکھ رؤساء کو یقین دلا دیا تھا کہ اگر وہ مجھ پر چھوڑ دیں تو ان کے احساسات کا پورا خیال رکھا جائے گا۔لیکن افسوس کہ مفسدہ پرداز لوگوں نے مجھ پر اعتبار نہ کیا اور دھمکیاں دینی شروع کر دیں جن کی وجہ سے مجھے اپنا قدم بیچ میں سے ہٹانا پڑا۔سردار صاحب! یہاں کے سکھوں کو تم دیکر پوچھیں کہ ان کی درخواست پر میں نے اپنے سکول میں ان کیلئے خاص انتظام کیا یا نہیں ؟ اور اُس وقت جب وہ مجھے سے لڑ رہے تھے آریوں کی طرف سے تکلیف پہنچنے پر میں نے ماضی کو بھلا کر پھر ان کے بچوں کیلئے ان کے حسب دلخواہ تعلیم کا انتظام کرنے پر آمادگی ظاہر کی یا نہیں ؟ ہاں انہیں قسم دیگر پوچھیئے کہ انفلوئنزا کے دنوں میں جبکہ میں اور میرے گھر کے سب لوگ سخت تکلیف میں مبتلا تھے قادیان کا ہر گھر مریضوں کی چیخ و پکار سے ایک میدانِ جنگ کا نقشہ پیش