انوارالعلوم (جلد 13) — Page 332
323 انوار العلوم جلد ۱۳ سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق پاک نہیں ہو جاتا۔آپ گو اسلام سے ناواقف ہوں لیکن اس قدر بات تو آپ کو بھی معلوم ہو گی کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت کے بعد مسلمانوں کے نزدیک دنیا میں دوہی گروہ ہیں، یا مسلمان یا کافر۔اگر اس احراری کے نزدیک جو منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے مسلمان کہنے سے باوا صاحب کی ہتک ہوتی ہے تو اس سے آپ دریافت کریں کہ وہ باوا صاحب کو کیا سمجھتا ہے؟ اگر وہ مسلمان ولی اللہ سے بڑھ کر کوئی درجہ با وا صاحب کو دے تو آپ سمجھ لیں کہ وہ آپ کا خیر خواہ ہے اور اگر اس کا مطلب یہ ہو کہ با واصاحب بانی اسلام علیہ السلام کے منکر تھے اور اس طرح کا فر تھے تو آپ بتائیں کہ وہ با وا صاحب کی ہتک کرنے والا ہوا یا ہم لوگ جو ان کو ایک بزرگ اور خدا رسیدہ انسان سمجھتے ہیں؟ سردار صاحب ! آپ شاید جانتے ہیں کہ ولی اللہ مسلمان سے اوپر مسلمانوں کے نزدیک صرف رسول اور پیغمبر ہوتے ہیں۔اگر یہ احراری با واصاحب کو رسول یا پیغمبر کہتا ہو تو اس سے اس کی قوم کے نام اشتہار دلوائیں اور اس کا خرچ مجھ سے لیں لیکن اگر وہ اس سے انکار کرے تو سمجھ لیں کہ جس وقت اس نے یہ کہا تھا کہ احمدیوں کی غلطی ہے کہ وہ باوا صاحب کو مسلمان ولی اللہ کہتے ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ وہ انہیں مسلمان ولی اللہ سے بڑا سمجھتا ہے بلکہ وہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ اپنے فطرتی گند کی وجہ سے باوا صاحب کو کافر اور خدا سے دور قرار دے رہا تھا اور اگر یہ بات درست ہے تو آپ سوچیں کہ آپ مر کر اپنے مقدس گرو کو کس طرح منہ دکھائیں گے۔کیا وہ آپ سے یہ نہ پوچھیں گے کہ جو لوگ مجھے ولی اللہ کہتے تھے وہ تو تمہارے دشمن تھے اور جو مجھے کافر سمجھتے تھے اُن کو تم نے اپنا دوست بنایا تھا۔سردار صاحب! اگر واقعہ میں آپ کو حضرت باوا صاحب پر ایمان ہے تو آپ نے ایک سخت گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور حضرت باوا صاحب کی روح کو سخت صدمہ پہنچایا ہے۔پس تو بہ کریں اور بندوں کی خوشنودی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی طرف متوجہ ہوں اور اگر واقعہ میں حضرت باوا صاحب سے آپ کو محبت ہے تو جب وہ شخص آپ سے ملئے آپ اُس وقت تک اُس کو نہ چھوڑیں جب تک اُس سے پوچھ نہ لیں کہ ایک مسلمان ولی اللہ سے بڑھ کر کون سا درجہ حضرت با وا صاحب کو دیتا ہے اور اگر وہ اِس کا جواب نہایت دل شکن دے یا خاموش ہو جائے اور بہانے بنانے لگے تو سمجھ لیں کہ آپ نے دنیوی اغراض کی خاطر حضرت باوا صاحب کی ہتک خود سکھوں کے جلسہ میں کروائی اور با واصاحب کی ہتک کروانے والے آپ ہیں ہم نہیں۔