انوارالعلوم (جلد 13) — Page 309
انوار العلوم جلد ۱۳ 309 تحقیق حق کا صحیح طریق موجود نہیں۔انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک اور اس کے بعد کے لئے تمام ضروری باتیں اس میں بیان کر دی گئی ہیں۔بچپن جوانی ، شادی بڑھاپا ہر وقت کے فرائض بتا دیئے گئے ہیں۔پھر سودا لینے اور دینے، قرض لینے و دینے، حکومت اور رعایا کے تعلقات غلام و آقا مزدور اور مزدوری کرانے والے تاجروں اور گاہکوں غرضیکہ کوئی پیشہ اور فن اور زندگی کا کوئی پہلو نہیں جس کے لئے مکمل ہدایات اور پوری رہنمائی موجود نہ ہو اور کامل تعلیم اس کے لئے موجود نہ ہو۔پھر ایسی معقول تعلیم کہ دنیا دھکے کھا کھا کر اس کی طرف آنے پر مجبور ہو رہی ہے۔پہلے یورپ میں طلاق کے مسئلہ پر ہنسی کی جاتی تھی حتی کہ بعض مسلم لیڈر بھی یہ خیال کرنے لگ گئے تھے کہ یہ حکم اس زمانہ کیلئے نہیں۔سیدا میر علی صاحب نے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ صرف عربوں کیلئے تھا، وگر نہ اسلام کا یہ کوئی مستقل مسئلہ نہیں۔گویا اہلِ یورپ کا اتنا رُعب تھا کہ مسلمان بھی اسے اسلام سے خارج ہی قرار دینا چاہتے تھے مگر اب یورپ میں اس کی اس قدر کثرت ہو گئی ہے کہ وہ اپنی ذات میں عیب بن گیا ہے۔میں نے ٹائمنز میں پڑھا تھا کہ ایک عورت فوت ہوئی ہے جس نے بارہ خاوند کئے۔ایک عورت نے اس لئے طلاق حاصل کی کہ میرا خاوند مجھے چومتا نہیں۔ایک نے اس وجہ سے طلاق حاصل کرنے کی درخواست دی کہ میں نے ایک ناول لکھا تھا میرا خاوند کہتا ہے میں اسے شائع نہ کروں اس لئے میں اس کے گھر میں نہیں رہنا چاہتی۔غرض ایسی ایسی چھوٹی باتوں پر طلاقیں شروع ہوگئی ہیں لیکن اسلام نے بتایا ہے کہ جب میاں بیوی آپس میں مل جائیں تو پھر ان کارشتہ نہ ٹوٹنا چاہئے مگر جب نہ مل سکیں تو جدائی ہی بہتر ہے۔جھگڑے کی صورت میں پہلے باہم صلح کی کوشش کی جائے اور اگر اس طرح کامیابی نہ ہو تو دونوں کی طرف سے حگم بیٹھیں جو صلح کرانے کی کوشش کریں لیکن جب نباہ کی کوئی صورت بھی نہ بن سکے تو پھر طلاق کی اجازت ہے۔مسلمانوں کی اس حالت کو نہ دیکھو کہ باہر کسی سے لڑ کر آئے کھانے میں نمک ذرا کم و بیش ہوا تو کھٹ بیوی کو کہہ دیا تم پر تین طلاق یہ جہالت کی باتیں ہیں اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔قرآن کریم نے طلاق کیلئے شرائط مقرر کی ہیں اور ان پر عمل کرنا ضروری رکھا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کی ضرورت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔میں بتا رہا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کی ساری ضرورتوں کو پورا کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ دوسری مثال اس کی یہ ہے کہ آپ نے بدی کو