انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 243

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۳ احمدیت کے اصول پیش کیا اور اس امر کے ایسے بین ثبوت دیئے کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے ایک ادنی اشارے پر ہزاروں لوگ جانیں فدا کر دیتے تھے اور عزیز سے عزیز چیز مسرت کے ساتھ قربان کر دیتے تھے۔اگر انہوں نے خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی ان میں یہ بات نہ پیدا ہوسکتی۔تاریخ سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی جنگ کیلئے جب تشریف لے گئے اس وقت انصار کے ساتھ آپ کا معاہدہ یہ تھا کہ وہ مدینہ کے اندر آپ کی حفاظت کریں گے۔یعنی اگر کوئی دشمن مدینہ میں داخل ہو کر آپ پر حملہ کرے گا تو اس کا مقابلہ کریں گئے باہر جا کر نہیں لڑیں گے۔بدر کی طرف جاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ نے یہ نہیں بتایا تھا کہ لڑائی ہو گی موقع کے قریب آکر اس کی اطلاع دی اور مشورہ کیا کہ ہمیں لڑنا چاہئے یا نہیں۔مہاجرین نے کہا ضرور لڑنا چاہئے مگر اس جواب کے بعد آپ نے پھر فرمایا کہ لوگو بولو کیا کرنا چاہئے۔مہاجرین پھر جواب دیتے مگر اس جواب کے بعد آپ نے پھر یہی فرمایا۔اس پر ایک انصاری بولے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کا منشاء شاید ہم سے ہے۔آپ سے بیشک ہمارا معاہدہ تھا مگر اسی وقت تک کے لئے تھا جب تک آپ کے ذریعہ ہم نے خدا کو نہ دیکھا تھا اور صرف سنی سنائی باتیں تھیں۔اس کے بعد آپ کے ظہور سے ہم نے زندہ خدا کے زندہ نشانات دیکھے اب وہ حالت نہیں۔اب تو اگر آپ سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں گے تو ہمیں اس میں ذرا تا مل نہ ہو گا۔خدا کی قسم ! دشمن آپ تک نہ پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں پر سے گذر کر نہ آئے۔ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی ہم موسیٰ کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ جاتو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھرو بلکہ دشمن آپ تک ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی پہنچ سکے گا۔ایک صحابی کہتے ہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کئی جنگوں میں شریک ہوا مگر مجھے ہمیشہ حسرت رہی کہ کاش یہ سعادت مجھے نصیب ہوتی کے۔یعنی یہ فقرہ میرے منہ سے نکلتا۔یہ بات بغیر اس کے ممکن نہ تھی کہ ان لوگوں نے زندہ خدا کو دیکھ لیا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔يَدُ اللهِ فَوْق أَيْدِيهِمُ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ انہوں نے بیعت کرتے وقت اپنے ہاتھوںپر تیرا ہاتھ میں دیکھا کہ خدا کا ہاتھ دیکھا ہے اور یہ اسی بات ہے جو نبی کے بغیر نصیب نہیں ہوسکتی۔صفت قدوسیت کا اظہار دوسری چیز پاکیزگی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب کی حالت سب پر واضح ہے