انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 242

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۲ احمدیت کے اصول کے دل میں خیال اور خوف پیدا ہوتا ہے اور بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ ان کا یہ خوف اپنی جان کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھا۔آپ کچھ گھبراہٹ کا اظہار کرتے ہیں۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ڈرتے کیوں ہوا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اور یہ ایک ایسا جملہ ہے جو خدا ہونا چاہئے کہنے والے کے منہ سے نہیں نکل سکتا جنہوں نے خدا کو دیکھا نہیں ہوتا وہ ایسی حالت میں نہیں کہتے کہ خدا ہے وہ ہمیں بچائے گا بلکہ وہ ایسے موقع پر جان بچانے کیلئے کئی حیلے اختیار کرتے ہیں۔کبھی جھوٹ کبھی فریب اور کبھی خوشامد سے جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے اندر یہ احساس نہیں ہو سکتا کہ نڈر ہو کر کہیں خدا ہمارے ساتھ ہے اور دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔چنانچہ کھوجی نے ان لوگوں سے کہا بھی کہ غار کے اندر دیکھو مگر کسی نے نہ دیکھا اور اوپر ہی کھڑے ہو کر واپس چلے گئے۔یہ ایک ایسی مثال ہے جسے مسلمان بچے بھی جانتے ہیں۔وگر نہ آپ کی زندگی کی ہر ساعت میں آپ نے اپنے عمل سے بتایا ہے کہ ایک زندہ خدا موجود ہے اور آپ اسے پیش کرتے تھے اور ایسی طرح کہ کسی کو انکار کی گنجائش نہ رہتی تھی۔مکہ میں بھی اور مدینہ میں بھی یہی حالت تھی اور ہر جگہ آپ نے خدا کا جلال اور ارفع و اعلیٰ شان پیش کی بلکه قبل از وقت واقعات بتا دیئے حتی کہ بدر کی جنگ کے متعلق صحابہ کا بیان ہے کہ آپ نے ہمیں یہاں تک بتا دیا تھا کہ فلاں فلاں کا فرفلاں فلاں جگہ مارا جائے گا اور اس سے خدا کا ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہی چیز ہے جس کیلئے نبی مبعوث ہوتے ہیں۔عقلی دلائل کیلئے کسی نبی کی حاجت نہیں صحابہ کے زندہ خدا کو دیکھنے کا ثبوت ہوا کرتی۔پہلی بیتا سے متعلق لکھا ہے۔بوعلی کہ ان کا ایک شاگرد ایک دفعہ ان کی قابلیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ کہنے لگا آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بڑھ گئے ہیں۔بوعلی سینا یہ بات سنکر خاموش رہے۔سردی کا موسم آیا تو ایک تالاب کا پانی منجمد ہورہا تھا اور اس پر برف کی پڑیاں جمی ہوئی تھیں آپ نے اس سے کہا اس میں چھلانگ لگاؤ۔اس نے جواب دیا آپ پاگل تو نہیں ہو گئے کہ طبیب ہو کر مجھے ایسا حکم دیتے ہیں جس کا نتیجہ ہلاکت ہے۔بوعلی سینا نے کہا تمہیں یاد ہے تم نے مجھے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل بتایا تھا مگر نادان تو اتنا نہیں جانتا کہ آپ کے تو ایک ادنی اشارہ پر ہزاروں لوگ جانیں فدا کر دیتے تھے مگر تو مجھے آپ سے برتر کہنے کے باوجود میرے کہنے پر میری بات نہیں مانتا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو مشاہدات کے ساتھ دنیا کے سامنے