انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 239

۲۳۹ انوار العلوم جلد ۳ احمدیت کے اصول ہیں لیکن ہر آنکھ بینا نہیں ہوتی اور ہر عقل رسا نہیں ہوتی ، ہر ذہن حقیقت کو سمجھنے والا نہیں ہوتا اس لئے ضروری ہے کہ سمجھانے کیلئے کوئی استاد بھی ہو اس لئے فرمایا۔هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ وہی خدا ہے۔اَلْمَلِكِ القُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ـ جس نے امی لوگوں میں یعنی ان لوگوں میں جو صداقتوں سے بالکل بے بہرہ تھے اپنا ایک رسول بھیجا۔وہ باہر سے نہیں آیا کہ تم کہہ سکو کہیں سے سیکھ کر آیا ہے بلکہ وہ انہی میں سے تھا جیسے یہ امی تھے ویسا ہی وہ تھا اس نے کسی اور جگہ زندگی بسر نہیں کی کہ کہا جا سکے وہ کہیں سے علوم وفنون سیکھ کر آیا ہے۔یہ لوگ اس کی زندگی کے ہر لمحہ سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ اس نے کسی سے سبق نہیں پڑھا، باہر سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ وہ انہی میں سے ایک ہے۔وہ کیا کرتا ہے فرمایا۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ایہ وہاں پہلے ملک فرمایا تھا اور یہاں اس کے مقابل میں يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ایسے فرمایا۔یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ثابت کرتا ہے۔بادشاہ اسے کہتے ہیں جس کی باقاعدہ حکومت ہو فوج انتظام کرنے کیلئے اور پولیس مجرموں کو پکڑنے کیلئے موجود ہو بد معاشوں کی سزا یابی اور مقدمات کے تصفیہ کیلئے عدالتیں ہوں، جس کا سکہ رواں ہو۔یا پرانے زمانے میں بادشاہ کی یہ نشانی سمجھی جاتی تھی کہ جس کی مہر دنیا میں رائج ہو، جس کا تاج و تخت ہو غرضیکہ بادشاہت کیلئے کسی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی چار صفات بیان کی ہیں اور ان کے ثبوت کیلئے ہم نے یہ ذریعہ مہیا کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا ہے جو ان چاروں صفات کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے۔پہلی صفت الملک بیان کی تھی۔اس کے متعلق فرمایا رسول کا کام یہ ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ الله یہ وہ دلائل سناتا ہے جن سے پتہ لگتا ہے کہ دنیا کا کوئی بادشاہ ہے۔دوسری صفت القدوس پیش کی تھی اس کے مقابل رسول کا کام یہ بتایا۔وَيُزَنِيهِمُ کہ دنیا کو پاک کرتا ہے۔عالم کی علامت کیا ہوتی ہے یہی کہ وہ دوسروں کو پڑھاتا ہے اور دوسرے لوگ اس کے ذریعہ عالم ہو جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کا ثبوت یہ ہے کہ اس کی طرف سے آنے والے دنیا کو پاک کرتے ہیں۔محمد رسول اللہ گندے لوگوں کو لیتا ہے اور اس کے ہاتھ میں آکر وہ پاک ہو جاتے ہیں۔تیسری صفت عزیز یعنی غالب ہے ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔وہ صرف نام کا ملک نہیں بلکہ اس کی ملوکیت ہمیشہ جاری ہے اور اس کا ثبوت یہ دیا کہ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وہ دنیا میں خدا کے قانون اور شریعت کو رائج کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قانون کو دنیا میں نافذ کر کے اس کی عزیزیت ثابت کرتا ہے۔