انوارالعلوم (جلد 13) — Page 224
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۲۴ اہم اور ضروری امور پانی اور اونچا کرو تا کہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑیا کا جو بچہ بیٹھا ہے وہ پانی پی سکے۔اس کہانی میں یہ عبرت ہے کہ ایک بے گناہ کے لئے کروڑوں گناہ گاروں کو تباہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح یہ بھی سیچ ہے کہ ایک بے گناہ کو بچانے کے لئے کروڑوں گناہگاروں کو بھی بخشا جا سکتا ہے۔قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے بھی کہ مندرجہ ذیل باتوں سے مصائب اور مشکلات دور ہو سکتی ہیں۔اول صبر سے۔مومن کو تکالیف اور مصائب میں گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ صبر سے کام لینا چاہیئے۔گھبرانے سے کبھی کوئی مصیبت ٹلی ہے کہ اب ٹل سکے خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو مصائب میں مبتلا کر کے دیکھتا ہے کہ میرا بندہ ابتلاء پر ناراض تو نہیں ہوتا اور اس وقت بھی میری رضا کو مقدم رکھتا ہے یا نہیں۔مثنوی رومی میں آتا ہے کہ حضرت لقمان کو کسی کی غلامی اختیار کرنا پڑی۔ان کا مالک ان پر بہت مہربان تھا اور ان کی بڑی تواضع کرتا تھا۔ایک دفعہ اس کے پاس بے موسم کا خربوزہ آیا اُس نے اُس کی ایک قاش تراش کر حضرت لقمان کو دی اور انہوں نے خوب مزے سے کھائی۔اُس نے سمجھا انہیں بہت اچھی لگی ہے اِس پر اُس نے اور دی وہ بھی انہوں نے مزے لے لے کر کھائی یہ دیکھ کر ایک قاش اُس نے خود کھانی چاہی لیکن منہ میں ڈالتے ہی اُسے معلوم ہوا کہ وہ بہت بے مزہ ہے۔اِس پر اُس نے حضرت لقمان سے کہا یہ آپ نے کیا کیا ایسے بدمزہ خربوزہ کو کیوں مزے لے لے کر کھاتے رہے؟ انہوں نے جواب دیا اس ہاتھ سے میں نے اتنی میٹھی چیزیں کھائی ہیں کہ یہ بڑی بے حیائی ہوتی اگر اس کڑوی قاش پر منہ بناتا۔تو خدا تعالیٰ کبھی بندہ سے حضرت لقمان والاصبر دیکھنا چاہتا ہے کہ اتنی نعمتیں جو میں نے اسے دی ہیں مصائب نازل کر کے دیکھوں کہ اس کی کیا حالت ہوتی ہے پھر مصائب و مشکلات سے نجات دلانے والی دوسری چیز قربانی ہے۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ طالب علمی کے زمانہ میں مجھے لباس کے متعلق بہت تکلیف رہتی۔ایک دفعہ کسی نے دو نہایت عمدہ صدریاں بنوا کر بھیجیں جو مجھے بہت اچھی لگیں۔ان میں سے ایک پہن کر میں باہر نکلا اور میں نے کہا کہ میں بھی کیا بانکا ہوں۔سیر سے واپس آیا تو معلوم ہوا کہ دوسری صدری چوری ہوگئی ہے۔اس پر میں نے جو صدری پہنی ہوئی تھی وہ بھی صدقہ میں دے دی اور میرے پاس کوئی عمدہ کپڑا پہننے کے لئے نہ رہا۔مگر خدا تعالیٰ نے ایک امیر آدمی کا جو بیمار تھا علاج کرنے کا موقع پیدا کر دیا اور اس میں کامیابی عطا کی اس طرح مجھے اتنی دولت مل گئی کہ مجھ پر حج فرض ہو گیا۔تیسری چیز استقلال ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک کام کچھ عرصہ کرتے ہیں اور -