انوارالعلوم (جلد 13) — Page 223
انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۲۳ اہم اور ضروری امور چندہ پورا کرنے کا وقت مالی سال کا آخر مقرر کیا جاتا ہے کیونکہ دسمبر تک زمینداروں کی ساری فصلیں تیار نہیں ہوتیں۔پس میں اعلان کرتا ہوں کہ ۳۰۔اپریل کے بعد میں ایسی لسٹ تیار کراؤں گا جس سے یہ معلوم ہو کہ کس کس جماعت نے اپنا سالانہ بجٹ پورا کیا اور کس کس نے نہیں کیا۔اس کے بعد جو مناسب کارروائی ہوگی کی جائے گی۔آج کی رپورٹ یہ ہے کہ اس وقت تک ۸۷ ہزار کے بل قابل ادائیگی ہیں، بعض بل ابھی آئے نہیں اور کارکنوں کی چار ماہ کی تنخواہیں باقی ہیں۔بے شک آپ لوگوں کو بھی مالی مشکلات ہیں لیکن جو ملازم ہیں، اُن کو ماہواری تنخواہ تو مل جاتی ہے مگر یہاں کام کرنے والوں کو چار چار ماہ تک تنخواہیں نہیں ملتیں۔اس وجہ سے مخلصین کے ایمان میں تو کوئی فرق نہیں آتا مگر جو کمزور ایمان والے ہیں ان کے ایمان میں فرق آ جاتا ہے اور وہ اس قسم کی تمسخر آمیز باتیں کرنے لگ جاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔چونکہ ایک گندی مچھلی تالاب کو گندہ کر دیتی ہے، اس لئے میں ایک آدھ ایسے شخص کا ذکر کر کے کیوں مخلصین کے ایمان پر پانی پھیروں۔مگر اتنا سن لورسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔كَادَ الْفَقْرُ انُ يَكُونَ كُفراً سے یعنی کبھی فقر بھی گھر بن جاتا ہے۔اب میں نے مالی مشکلات سے تنگ آ کر فیصلہ کر دیا ہے کہ مبلغین دورے نہ کریں اور خط و کتابت میں بھی کمی کر دی جائے اور قرض لے کر کارکنوں کو دو ماہ کی تنخواہیں دی گئی ہیں۔یہ حالت کب تک برداشت کی جاسکتی ہے اور کب تک اس طرح کام چل سکتا ہے۔جماعتوں کو اس ذمہ داری کی طرف توجہ کرنی چاہیئے اور جن کے ذمے بقائے ہوں، انہیں سال کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ادا کر دینے چاہئیں بے شک آج کل کی مالی پریشانی بہت بڑی پریشانی ہے مگر یاد رکھو خدا تعالیٰ کے فضل سے سب تکالیف دور ہوسکتی ہیں۔کیا جس خدا نے ۱۹۱۴ ء سے لیکر ۱۹۲۴ ء تک غلہ کا بھاؤ نہایت گراں رکھا وہ اب اسی طرح نہیں کر سکتا۔وہ اب بھی کر سکتا ہے مگر اس کے لئے اتنی قربانی کرنی چاہیئے کہ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل کے مستحق قرار دے دے۔اس میں شبہ نہیں کہ بظاہر حالات یہ محال معلوم ہوتا ہے کہ ۲۳ کروڑ انسانوں کی خرابی کو چند لاکھ انسانوں کی قربانی کی خاطر دور کر دیا جائے۔مگر یاد رکھو کہ مخلص جب قربانی کی آخری حد کو پہنچ جائے تو خدا تعالیٰ ایک کے لئے بھی ۳۳ کروڑ کو بخش سکتا ہے اور ایک مخلص کی خاطر بھی ۳۳ کروڑ کو تباہ کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ گو یہ محض ایک قصہ ہے مگر اس میں عبرت ضرور ہے۔بعض نے لکھا ہے کہ جب حضرت نوح علیہ السلام کے وقت طوفان آیا اور ساری دنیا اس میں غرق ہوگئی تو خدا تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا ابھی