انوارالعلوم (جلد 13) — Page 168
۱۶۸ انوار العلوم جلد ۳ رحمة للعالمين ختم ہو جائے کہ پھر میں نے اسی مومنی پیاری دلکش آواز کو بلند ہوتے ہوئے پایا۔پھر اسے ایک انداز دلر بائی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو نعمت ہم نے پائی اسے اپنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان میں تقسیم کر دیا۔خدا تعالیٰ کی نعمتیں ماضی سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ وہ اسی طرح مستقبل کا بھی رب ہے جس طرح ماضی کا۔جو کوئی بھی اس سے سچا تعلق رکھے گا اس کا کلام اس پر نازل ہوگا ، اس کے نشانات اس کیلئے ظاہر ہوں گے، اس کی محبت محدود نہیں کہ وہ اسے گذشتہ لوگوں پر تقسیم کر چکا، وہ ایک غیر محدود خزانہ ہے۔جس سے ہر زمانہ کے لوگ علی قدرمراتب حصہ لیں گے۔ہر اک جو سچے دل سے کہے گا کہ اللہ میرا رب ہے اور اس تعلق پر سچے عاشقوں کی طرح قائم ہو جائے گا خدا کے فرشتے اس پر نازل ہوں گے اور اس کے رب کا پیغام اس کو آ کر دیں گے اور اس کی محبت بھری باتیں اس کے کان میں ڈالیں گے اور غموں اور فکروں کے وقت اس کے دوش بدوش کھڑے ہوں گے اور بشارت دیں گے کہ اللہ تمہارا دوست اور تمہارا مددگار ہے۔پس کچھ فکر نہ کرو اور غم نہ کرو کل اور الہام الہی کا دروازہ ہمیشہ ان کے لئے کھلا رہے گا اور ان کے عشق کو رد نہ کیا جائے گا بلکہ قبول کیا جائے گا اور وہ سب در جے جو پہلوں کو ملے ہیں ان کو بھی ملیں گے۔میں نے یہ بشارت سن کر بے اختیار کہا اللهُ أَكْبَرُ یہ آواز تو آئندہ نسلوں کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی۔اگر آئندہ کے لئے آسمانی نعمتوں کا دروازہ بند ہو جاتا تو عاشق تو جیتے جی ہی مر جاتے۔جن کے دل میں عشق الہی کی چنگاری سلگ رہی ہے انہیں جنت بھی اسی لئے اچھی لگتی ہے کہ اس میں معشوق از لی کا قرب نصیب ہوگا ورنہ انار اور انگور ان کے لئے کوئی دلکشی کا سامان نہیں رکھتے۔اگر قرب سے ہی ان کو محروم کیا جانا تھا جیسے کہ دوسرے لوگ کہتے ہیں تو ان کے لئے پیدا ہونا یا نہ ہونا برابر تھا۔پس مبارک وہ جس نے آئندہ نسلوں کو بھی امید سے محروم نہ کیا اور عاشقوں کو معشوق کے وصال کی خوشخبری سنا کر ہمیشہ کیلئے اپنا دعا گو بنا لیا۔مگر اب تو میرے دل سے ایک بہت ہی درد بھری آہ نکلی اور میں نے کہا۔کیا ان تیرہ صدیوں ، نا قابل گذر تیرہ صدیوں کیلئے جن کو ماضی کی مہر نے بالکل ہی عبور کے قابل نہیں چھوڑا طے کرنے کا کوئی راستہ نہیں۔کیا میرے اور میرے محبوب کے درمیان ایسی سد سکندری حائل ہے جس کو توڑنا بالکل ناممکن ہے؟ کیا اس مایوسی کی تاریکی کو امید کی کوئی کرن بھی نہیں پھاڑتی۔میں انتہائی کرب میں تھا کہ مجھے ایک اور آواز سنائی دی۔ایسی قریب کہ اس کے قرب کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ وہ میری رگ گردن سے بھی زیادہ قریب تھی۔اور اس نے کہا افسوس