انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 167

انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين میں نے کہا آئندہ نسلیں لوگوں کو اپنی جانوں سے کم پیاری نہیں ہوتیں۔ماں باپ خود فنا ہونے کو تیار ہوتے ہیں بشرطیکہ ان کی اولاد بچ جائے بلکہ سچ پوچھو تو وہ ہر روز اپنے آپ کو اولاد کی خاطر تباہی میں ڈالتے رہتے ہیں۔پھر ماضی اور حال کسی کو کب تسلی دے سکتے ہیں جب کہ مستقبل تاریک نظر آتا ہو ، جب کہ آئندہ نسلیں فلاح و کامیابی کی راہوں پر چلنے سے روک دی گئی ہوں۔میں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا، یہ تو انسانی فطرت کے خلاف ہے کہ کوئی اپنی نسلوں کی تباہی پر راضی ہو جائے اس لئے مستقبل کے متعلق تو ضرور سب مذاہب متحد ہونگے اور اس مقدس وجود سے ان کو اختلاف نہ ہو گا جو دوسرے امور میں ان سے اختلاف کرتا رہا ہے اور ان کیلئے صحیح عقیدہ یا صحیح عمل پیش کرتا رہا ہے۔تب میں نے عالم خیال میں ہند و بزرگوں سے سوال کیا کہ آئندہ نسلوں کیلئے آپ میں کیا وعدے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ وید آخری اور اوّل کتاب ہے اس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں۔میں نے کہا میں تو کتاب کے متعلق سوال نہیں کرتا میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ جو پہلوں نے دیکھا کیا آئندہ نسلوں کے لئے بھی اس کے دیکھنے کا امکان ہے۔وید دوبارہ نازل نہ ہوں لیکن ویدوں نے جو عجائبات پہلے لوگوں کو دکھائے کیا ویسے ہی عجائبات پھر بھی دنیا کے لوگ دیکھیں گے اور اپنے ایمان تازہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ افسوس ایسا نہیں ہو سکتا۔آخر ویدوں کے زمانہ جیسا زمانہ اب دنیا کو کس طرح مل سکتا ہے۔میں نے بدھوں سے سوال کیا اور انہوں نے بھی کوئی ایسی امید نہ دلائی۔زردشتی لوگوں نے بھی اس پرانے اچھے زمانے کا وعدہ اپنی اولادوں کے لئے نہ دیا۔یہود نے کہا ز کر یا تک تو خدا تعالیٰ کا کلام لوگوں پر اترتا رہا اور اس کے معجزات لوگوں کے ایمان تازہ کرتے رہے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا۔مسیحیوں نے کہا حواریوں تک تو روح القدس اترا کرتا تھا مگر اب اس نے یہ کام ترک کر دیا ہے۔میں نے کہا اور آئندہ نسلیں ؟ کیا اب وہ محروم رہیں گی ؟ کیا اب ان کے ایمانوں کو تازہ کرنے کیلئے کوئی سامان نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ افسوس! اس رنگ میں اب کچھ نہیں ہو سکتا۔میں حیران تھا کہ لوگ کس طرح اپنی اولادوں کو محروم کرنے پر رضامند ہو گئے اور وہ کیوں خدا تعالیٰ کے آگے نہ چلائے کہ اگر اولاد کی محبت دی ہے تو ان کی ترقی کے سامانوں کے وعدے بھی تو کر۔مگر میں نے دیکھا ان لوگوں میں کوئی حس نہ تھی وہ اس پر خوش تھے کہ خدا کا کلام نَعُوذُ بِاللهِ کوئی لعنت تھا کہ شکر ہے اس سے ان کی اولادوں کو نجات ملی۔میں دلگیر و افسردہ ہو کر ان لوگوں کی طرف سے ہٹا اور میں نے کہا وہ نو ر بھی کیا جس کی روشنی بند ہو جائے اور وہ خدا ہی کیا جس کی جلوہ گری ماضی میں ہی