انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 145

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۴۵ رحمة للعالمين نظر کی اور ایک دل دہلانے والا نظارہ دیکھا۔میں نے بلند عمارتیں دیکھیں جوان فرمانبردار روحوں کے نام پر بنائی گئی تھیں میں نے ان میں ان کے مجسمے دیکھے جن کی لوگ پوجا کر رہے تھے۔میں نے بھاری بھر کم جسموں والے بڑے بڑے ببوں والے لوگ دیکھے جو نہایت سنجیدہ شکل بنائے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ گویا سب دنیا کا علم سمٹ کر ان کے دماغوں میں جمع ہو گیا ہے اپنے گرد و پیش بیٹھے ہوئے لوگوں کو اس لہجہ میں کہ گویا وہ ایک بڑے راز کی بات انہیں بتا رہے ہیں ایسی بات کہ جسے دوسرے لوگ عمر بھر کی جستجو اور بیسیوں سال کی تپسیا کے بعد بھی حاصل نہیں کر سکتے یہ کہہ رہے تھے کہ فرشتے اصل میں خدا کی بیٹیاں ہیں سے اور جو کام خدا تعالیٰ سے کرانا ہو اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ ان خدا کی بیٹیوں کو قابو میں کیا جائے اور وہ بزعم خود ایسی عبادتیں جن سے فرشتے قابو آتے ہیں لوگوں کو بتارہے تھے۔لوگوں کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے اور ان کے دل ان علم روحانی کا خزانہ لگانے والوں پر قربان ہو رہے تھے۔پھر میری ایک اور طرف نگہ پڑی میں نے دیکھا ویسے ہی جبوں والے کچھ اور لوگ اپنے عقیدت مندوں کے جھرمٹ میں ایک کنویں کے پاس کھڑے ہوئے کچھ راز و نیاز کی باتیں کر رہے تھے۔وہ انہیں بتا رہے تھے جس طرح ایک گہرا راز بتایا جاتا ہے کہ اس کنویں میں ہاروت و ماروت دو فرشتے ایک فاحشہ سے عشق کرنے کے جرم میں قید کئے گئے تھے۔کچھ جبہ پوش تو اصرار کر رہے تھے کہ وہ اب بھی اس جگہ قید ہیں اور بعض تو یہاں تک کہتے تھے کہ ان کے کسی اُستاد نے ان کو الٹا لٹکے ہوئے دیکھا بھی ہے جسے سن کر کئی عقیدتمندوں کے جسم پر پھر یری آ جاتی تھی تب مجھے معلوم ہوا کہ انسانی گناہ نے فرشتوں کو بھی نہیں چھوڑا۔میں اسی حیرت میں تھا کہ میں نے پھر وہی آواز دلکش، مؤثر ، شیریں آواز ، محبت اور جلال کی ایک عجیب آمیزش کے ساتھ بلند ہوتی ہوئی سنی۔اس نے کہا فرشتے خدا کے بندے ہیں نہ کہ بیٹیاں کے اور وہ پوری طرح اس کے فرمانبردار ہیں۔کبھی بھی اس کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے۔۵ لوگوں میں پھر بیداری پیدا ہوئی۔بہت سے لوگ خواب غفلت سے چونکے اور اپنے پہلے عقائد پر شرمندہ اور نادم ہوئے کئی اونچی عمارتیں جو خدا کی بیٹیوں کے نام سے کھڑی کی گئی تھیں، گرا دی گئیں اور ان کی جگہ خدائے واحد و قہار کی عبادت گاہیں کھڑی کی گئیں، وہ کنویں جو فرشتوں کے گناہوں کی یادگار تھے اُجاڑ ہو گئے زائرین نے ان کی زیارت ترک کر دی۔میں نے دیکھا فرشتے خوش تھے۔گویا ان کے لباسوں پر گندے چھینٹے پڑ گئے تھے جسے دھونے والے نے دھو دیا۔میرے دل سے پھر ایک آہ نکلی اور میں نے کہا یہ آوازان فرشتوں کے لئے بھی ایک رحمت ثابت ہوئی۔