انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 131

انوار العلوم جلد ۱۳ آہ! نادر شاہ کہاں گیا سے مقدر تھا۔یعنی پیشگوئی کے پورے پچیس سال بعد وہ نادر خان جس کے بادشاہ ہونے کے وقوعہ سے چھ ماہ پہلے بھی کوئی امکان نہ تھا، تخت افغانستان پر متمکن ہونے کے لئے منتخب کیا گیا۔باوجود اس کے کہ اُس کی خواہش نہ تھی، با وجود اس کے کہ وہ فیصلہ قوم کے ہاتھ میں چھوڑ چکا تھا اُسی کے نام قرعہ پڑا وہی اس بوجھ کو اُٹھانے کا اہل سمجھا گیا اور اس کے سوا کون اہل ہوسکتا تھا جسے خدا تعالیٰ نے اہل قرار دیا۔نا در خان کا نادرشاہ کہلانا (۸) مگر نادر خان کے نادرشاہ ہونے میں ایک مرحلہ ابھی باقی تھا بے شک افغانستان آزاد ہو چکا تھا بے شک اس کا امیر اب بادشاہ کہلاتا تھا بے شک اب نادر اس آزاد حکومت کے تخت پر بیٹھ کر شاہ بن گیا تھا لیکن الہام میں اس کا نام نادر خان بادشاہ نہیں رکھا گیا تھا بلکہ نادرشاہ رکھا گیا تھا۔اگر بادشاہ نادر خان کے نام سے نادر کو پکارا جاتا تب بھی عقلمند انسان کے نزدیک پیشگوئی کو پورا سمجھا جاتا اور یہ خیال کیا جاتا کہ نادر خان شاہ کو اختصاراً نادرشاہ کہہ دیا گیا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے ایک ایک لفظ کو اس کی اصلی صورت میں پورا کرنا تھا، اس لئے اس کے لئے بھی غیر معمولی سامان پیدا کئے اور خود نادر کے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ وہ آئندہ نادرشاہ کہلائے۔اے سوچنے والو! سوچو! کیا یہ غیر معمولی خیال نہیں ! بادشاہ ہو کر لوگوں کے نام وہی رہتے ہیں۔شاہ ان کے نام کے ساتھ لگ جاتا ہے۔کبھی پہلے کبھی بعد میں۔لیکن ان کے قومی القاب اور ان کے نام وہی رہتے ہیں۔نادر کا نام نادر تھا اور قومی لقب خان تھا۔خان کا لفظ شاہ کے عہدہ کے خلاف نہیں بلکہ وہ تو شہنشاہ کے عہدہ کے بھی خلاف نہیں۔چنگیز خان آدھی دنیا سے زیادہ کا بادشاہ تھا مگر وہ شاہی لقب کے ساتھ خان بھی کہلاتا تھا۔اسی طرح چغتائی خاندان کے کئی بادشاہ ”سلطان“ لقب کے ساتھ خان بھی کہلاتے تھے۔جیسے سلطان غیاث الدین براق خان سلطان محمد خان سلطان محمد اولجه خان وغیرہ نام تاریخوں میں مذکورہ ہیں۔امان اللہ خان جن کے عہد میں افغانستان آزاد ہوا اور قدرتاً انہیں شاہ کہلانے کا شوق تھا وہ بھی شاہ امان اللہ خان کہلاتے تھے۔کیوں پھر اسی طرح نادر خان شاہ نادر خان نہ کہلائے ؟ کیوں ان کا نام ہی بدل کر نادر شاہ کر دیا گیا ؟ اے صداقت پسند روحو! کیا تم اس سے انکار کر سکتی ہو کہ یہ اُس خدائے قادر کا کام تھا اور صرف اُسی کا کام تھا جس نے ۳ مئی ۱۹۰۵ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دی تھی کہ