انوارالعلوم (جلد 12) — Page 46
۴۶ آسمانی تمثیل کو نہیں سمجھا اور یہ کہہ کر منہ پھیر لیا کہ ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ وہی مسیح آسمان سے اترے گا جو انیس سو سال پہلے اترا تھا- پس جب تک وہ فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نہیں اترے گا ہم کسی مسیح کو نہیں مانیں گے- لیکن یورایکسیلنسی! اس سوال کو اللہ تعالیٰ نے خود مسیح علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کی پہلی بعثت میں حل کر دیا ہے اور مسیح کے نزول سے پہلے ایلیا کے دوبارہ نزول کی پیشگوئی میں اس قسم کے تمثیلی کلام کی حقیقت کو ظاہر کر دیا ہے- پس آنے والا مسیح آسمان سے نہیں بلکہ اسی دنیا سے پیدا ہونا تھا اور بانی سلسلہ احمدیہ کے وجود میں ظاہر ہو چکا لوگ چاہیں تو قبول کریں اور جس کسی کے کان سننے کے ہوں سنے- جو لوگ باوجود کل پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے اسے تسلیم نہیں کریں گے وہ انتظار کرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ تھک کر ان میں سے بعض تو اس کی آمد ہی کے منکر ہو جائیں گے جس طرح یہود نے کیا اور بعض مایوسیوں کے گڑھوں میں گر جائیں گے اور امنگوں اور امیدوں سے جو اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ فضلوں میں سے ہیں محروم ہو کر زندگی کی ہر قسم کی دلچسپی کو کھو بیٹھیں گے- کاش کہ دنیا دیکھتی کہ خدا تعالیٰ کا مقدس کس طرح باوجود مخالفت کے بڑھتا چلا جاتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے برگزیدوں کو زمین کی حد سے آسمان کی حد تک چاروں طرف سے اکٹھا کر رہے ہیں- ۸؎ جب وہ ظاہر ہوا اس کے اہل وطن یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ چند دن میں اسے پیس ڈالیں گے لیکن آج اس کی طرف بلانے والے اور اس پر ایمان لانے والے ہندوستان سے باہر انگلستان‘ فرانس‘ جرمن‘ ہالینڈ‘ امریکہ شمالی اور جنوبی‘ آسٹریلیا‘ سماٹرا جاوا‘ چین‘ روس‘ ایران‘ افغانستان‘ عرب‘ عراق‘ شام‘ فلسطین‘ مصر‘ ٹرکی‘ الجزائر‘ مراکش‘ نائیجیریا‘ گولڈ کوسٹ (گھانا‘) سیرالیون‘ کینیا‘ یوگنڈا‘ ٹانگانیکا(تنزانیہ)، زنجبار‘ نٹال‘ کیپکالونی وغیرہ ممالک میں بھی پھیلے ہوئے ہیں اور روز بروز بڑھ رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں کہ جب یہ ہلال‘ بدر ہو کر مطلع عالم پر چمکے گا- پس مبارک ہیں وہ جو اب بھی اس کی صداقت پر غور کر کے خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے اور ابدی زندگی پاتے ہیں کیونکہ انسان روٹی سے نہیں بلکہ کلام سے زندہ رہتا ہے-۹؎