انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 45

۴۵ اس قدر آئے ہیں کہ پچھلی سات آٹھ صدیوں کے زلزلے اس کے برابر اموات اور نقصانمال نہیں پیش کر سکتے اور کال باوجود ریلوں اور جہازوں کی ایجاد کے ایسا پڑا ہے کہ روس اور ہندوستان اور چین اور کئی علاقوں میں اس قدر تعداد میں لوگ اس کے باعث تباہ ہوئے ہیں کہ اس سے پہلے کبھی اس قدر تباہی نہ آئی تھی- غرض جو کچھ خدا کے برگزیدہ مسیح نے اپنی دوبارہ بعثت کے وقت کے متعلق کہا تھا وہ لفظبلفظ پورا ہو چکا ہے اور اب مبارک ہے وہ جو وقت کو پہچانے اور اس کے ظہور کی تلاش کرے کیونکہ یہ ازل سے مقدر تھا کہ مسیح کی دوبارہ آمد اسی طرح پوشیدہ ہو جس طرح کہ پہلی دفعہ ہوئی تھی تا سچوں اور جھوٹوں میں فرق کیا جائے اور ہوشیار اور غافل میں امتیاز ہو- وہ جس نے آنا تھا نوشتوں کے مطابق آدھی رات کو آیا اور ایسا ہی ہونا چاہئے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مامور ہمیشہ تاریکی کے زمانہ میں ہی آیا کرتے ہیں وہ لوگوں کے نور سے حصہ لینے نہیں آتے بلکہ لوگوں کو تاریکی سے نکالنے کیلئے آتے ہیں- پس ان کی آمد کا زمانہ وہی ہوتا ہے جب لوگ خدا تعالیٰ اور اس کے دین سے انتہائی درجہ غفلت میں پڑے ہوئے ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان سے دوستی کر لیتے ہیں- پس اسی سنت اللہ کے مطابق اس زمانہ کا مسیح اور آسمانی بادشاہت کا دولہا ایسے ہی وقت میں آیا جب کہ کنواریاں سو چکی تھیں اور ان کی مشعلوں کا تیل ختم ہو چکا تھا سوائے چند کے جنہوں نے ہوشیاری سے تیل محفوظ رکھ چھوڑا تھا اور جو دولہا کے جلوس کے ساتھ شامل ہو گئیں- ۷؎ باقی سب نہ صرف جلوس میں شامل نہیں ہوئیں بلکہ افسوس کہ وہ تمثیل کی کنواریوں کی مانند تیل کی تلاش میں بھی نہیں گئیں اور سوتی ہی رہیں- مگر اللہ تعالیٰ کا رحم بہت وسیع ہے گو کہا گیا تھا کہ جو سوتی رہیں ان کے لئے شادی کے گھر کا دروازہ نہیں کھولا جائے گا لیکن خدا تعالیٰ کے رحم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر اک جو اپنی غفلت سے تائب ہو کر دولہا کی طرف قدم اٹھائے اسے قبول کیا جائے تا شیطان کی حکومت کو ختم کیا جائے اور دنیا کا سردار ہمیشہ کیلئے بعد میں ڈال دیا جائے- پس یورایکسیلنسی! اس تمنا کو دیکھ کر جو آپ کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کیلئے پائی جاتی ہے میں آپ کو بھی بشارت دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم کر دی گئی ہے اور خدا کا مسیح بادلوں پر سے یعنی دنیا والوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہو کر اور صرف آسمان والوں کی نظروں کے سامنے دنیا میں نازل ہو گیا ہے- لیکن اس کی آمد پر وہی ہوا جو پہلے ایلیا کے نزول کے وقت میں ہوا تھا یعنی لوگوں نے