انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 547

۵۴۷ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء جب تک یہ گورنر ہے اس وقت تک مخالفت میں کچھ نہ کیا جائے- تو جو عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے جواب دیا تھا وہی میں اس وقت دوں گا- بے شک ہماری موجودہ حالت کمزوری اور ناتوانی کی حالت ہے اور دنیا جن کو زینت کے سامان سمجھتی ہے‘ وہ ہمارے پاس نہیں ہیں- لیکن ہماری جماعت کی کمزوری کی جو حالت ہے- اس سے زیادہ کمزور اس وقت تھی جب رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے فتوحات کے وعدے دیئے اور اس سے زیادہ کمزوری ان مجالس میں پائی جاتی تھی- جن میں رسول کریم ﷺ قیصر وکسریٰ کی حکومتوں کو فتح کرنے کا ذکر فرمایا کرتے تھے- اس حالت کا نقشہ ایک فرانسیسی مصنف نے نہایت ہی عجیب رنگ میں کھینچا ہے- وہ لکھتا ہے- میں مذہب کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتا اور نہ کسی ¶مذہب کو مانتا ہوں- مگر جب میں ایک بات پر غور کرتا ہوں تو میرا دل کہتا ہے کہ خدا ہے اور ضرور ہے- وہ بات یہ ہے کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک چھوٹی سی کچی مسجد میں جس پر کھجور کی شاخوں کی چھت پڑی تھی- اور ایسی چھت کہ ذرا پانی برسنے پر پانی اندر آجاتا اور جب وہ لوگ نماز پڑھتے تو کیچڑ میں سجدے کرتے- ان کے لباس کی یہ حالت تھی کہ کسی کے پاس اگر کرتہ ہے تو پاجامہ نہیں اور اگر پاجامہ ہے تو کرتہ نہیں- سامان جنگ سے بھی بالکل تہی دست ہیں- ایسی حالت میں ایک باوقار انسان کی وہ بھی ان ہی جیسا لباس پہنے ہوئے ہے‘ ان میں بیٹھا ہے اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہا ہے- سننے والے لوگوں کی یہ حالت ہے کہ گویا وہ کوئی ایسی بات سن رہے ہیں جو مستقبل قریب سے تعلق رکھتی ہے- وہ بات جب میں سنتا ہوں تو وہ قیصروکسریٰ کی حکومتوں کو فتح کرنے کا ذکر ہے- جب میں یہ نقشہ دیکھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا ہے اور ضرور ہے- اس وقت ان کو پاگل سمجھا جاتا مگر وہ قیصر و کسریٰ کی حکومتوں پر قابض ہو گئے- اور جو باتیں وہ نہایت کمزوری اور بے سرو سامانی کی حالت میں کرتے تھے وہ پوری ہو گئیں- وہی وعدے خدا تعالیٰ نے اب پھر دہرائے ہیں- خدا تعالیٰ فرماتا ہے-ھوالذی بعث فی الامیین رسولا منھم یتلوا علیھم ایتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتاب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین واخرین منھم لما یلحقوابھم وھوالعزیز الحکیم ۲؎ وہی خدا جس نے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں وعدے کئے- اسی نے اس زمانہ میں