انوارالعلوم (جلد 12) — Page 546
۵۴۶ افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ ۱۹۳۲ء کوفہ والوں نے کی تھی- کوفہ کے لوگ بعض اسباب کی وجہ سے فتنہ کی طرف مائل ہو جاتے اور جلد جلد اپنے گورنر بدلوانے کیلئے عرضیاں دینے لگ جاتے- بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ سے کہا بھی کہ یہ لوگ شرارت کرتے ہیں‘ ان کی بات نہ مانی جائے- مگر انہوں نے فرمایا- جب ان کو اپنے حاکموں پر تسلی نہیں ہوتی- تو ہم بدل دیں گے- مگر اب کے ایسا حاکم بھیجا جائے گا جس کے بدلنے کی کوشش نہ کریں گے- انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو گورنر بنا کر بھیجا- ان کا ذکر اگرچہ مسلمانوں کی کتابوں میں کم آتا ہے لیکن ولایت میں ان کی خاص شہرت ہے- وہاں کی ریڈروں میں (SAGACIOUS( ۱؎ قاضی ان کا نام آتا ہے- حضرت عمرؓ نے جب ان کو گورنر مقرر کیا تو ان کی عمر ۱۹‘۲۰ سال کے قریب تھی- جب وہ گئے اور کوفہ کے لوگوں کو معلوم ہوا کہ ایک نوجوان لڑکا گورنر مقرر ہو کر آ رہا ہے تو انہوں نے کہا گربہ کشتن روز اول پر عمل کرنا چاہئے اور پہلے ہی دن ایسی خبر لینی چاہئے کہ اسے پتہ لگ جائے کہ کوفہ والوں پر حکومت کرنا آسان نہیں- اس بات کو مدنظر رکھ کر انہوں نے ایک بڑا جلوس تیار کیا جو کوفہ سے ایک منزل آگے جا ان سے ملا اس میں انہوں نے اپنے بڑے بڑے عمائدیں اور سرداروں کو شامل کیا جنہوں نے بڑی بڑی جنگوں میں حصہ لیا تھا- انہوں نے بڑے مظاہرہ کے ساتھ ان کو پیش کیا اور بڑی تعظیم کے ساتھ ان کا نام لیتے اور بڑے ادب سے انہیں سلام کرتے- جس سے مطلب یہ تھا کہ ایسے بڑے بڑے سردار ہم میں ہیں‘ ان کے مقابلہ میں تمہاری کیا حیثیت ہے کہ ہم پر حکومت کر سکو- انہوں نے تجویز یہ کی کہ مجلس میں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے عمر پوچھیں اور اس طرح انہیں مرعوب کریں- آخر جب دربار لگا تو ایک شخص جس کو اس بات کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس نے پوچھا آپ کی عمر کیا ہے- عبدالرحمن ان کی بات سمجھ گئے- انہوں نے کہا میری عمر پوچھتے ہو- میری عمر جب رسول کریم ﷺ نے اسامہ بن زید کو لشکر شام کا سردار مقرر کیا تھا جس میں ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی شامل تھے‘ اس وقت ان کی جو عمر تھی اس سے دو سال زیادہ ہے- اسامہ کی عمر اس وقت ۱۷‘۱۸ سال کی تھی- اس طرح انہوں نے بتایا کہ اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہو کہ تم میں بڑے بڑے آدمی ہیں اور میں نوجوان ہوں تو یاد رکھو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سے بڑے لوگ تم میں نہیں ہیں اور اگر یہ خیال ہو کہ میں اتنی چھوٹی عمر کا انسان انتظام کس طرح کروں گا- تو سن لو اسی طرح کروں گا جس طرح اسامہ بن زید نے کیا تھا- اس بات کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسی وقت سے ان لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ