انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 489

۴۸۹ راؤنڈٹیبل کانفرنس اور مسلمان ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کا فیصلہ مخالف ہو یا موافق مرکزی حکومت کے ڈھانچہ کے تیار ہونے سے پہلے شائع کر دیا جائے- مسلمانوں کے نمائندوں کو بھی چاہئے کہ وہ فوراً سب کے سب مل کر یا ان میں سے جس قدر بھی اپنی قوم کی ترجمانی کیلئے تیار ہوں حکومت تک ہمارا یہ خیال پہنچا دیں اور اگر حکومت اس کے بعد بھی اپنا فیصلہ شائع نہ کرے تو انہیں چاہئے کہ ایسے تمام سوال جو مرکزی اختیارات کے متعلق ہوں یا جن میں مرکز اور صوبجاتی حکومت کے اختیارات کی حد بندی کی جانی ہو ان کے متعلق احتجاج کر کے خاموش بیٹھے رہیں اور صرف کاروائی سنتے رہیں تاکہ ان کا علم کامل رہے اور صورت حالات کی تبدیلی کی صورت میں فوراً کام شروع کر سکیں- تمام ہندوستان میں ان قرار دادوں کے پاس ہونے کے بعد وفادار مسلمان نمائندوں کے ہاتھ مضبوط ہو جائیں گے اور وہ جو اپنی قوم کی ترجمانی کرنا پسند نہیں کریں گے ان کے متعلق ظاہر ہو جائے گا کہ وہ اس کانفرنس میں ذاتی اعزاز کے حصول نیت سے شامل ہوئے ہیں نہ کسی قومی فائدہ کو مدنظر رکھ کر- اگر مسلمان نمائندے سب کے سب یا ان میں سے بعض باوجود اپنی قوم کے مطالبہ کے بلا قید شرکت کو جاری رکھیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے متعلق عدم اعتماد کے ریزولیشن پاس کر کے حکومت کو بھجوا دیں اور تمام ہندوستان میں دوبارہ جلسے کر کے اس امر کا اعلان کر دیا جائے کہ مسلمانوں کی نمائندگی راؤنڈٹیبل کانفرنس میں بالکل نہیں ہے یا ناکافی ہے- برطانیہ کیلئے مسلمانوں سے سمجھوتہ ضروری ہے میں سمجھتا ہوں کہ خواہ کوئی کیسی ہی زبردست نمائندہ انجمن ہو اس کے فیصلہ کی نسبت یہ تمام ہندوستان کے جلسے زیادہ با اثر اور زیادہ مفید ثابت ہوں گے- اور حکومت ہند اچھی طرح معلوم کر لے گی کہ مسلمانوں کے اصل خیالات کیا ہیں اور چونکہ یہی حق ہے کہ اس وقت برطانیہ کا اپنی گزشتہ شان و شوکت کو قائم رکھنا مسلمانوں سے اتحاد کے بغیر ناممکن ہے اور موجودہ حالات میں مسلمانوں کا بھی اس میں فائدہ ہے کہ انگریزوں سے جو مسلمانوں کی طرح سب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں باوقار سمجھوتہ کر لیں- اس لئے جب مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ حکومت تک پہنچ جائے گا تو برطانیہ ضرور اس کی طرف توجہ کرے گا اور اگر وہ ایسا کرے گا تو ہماری طرف سے اس پر حجت تمام ہو جائے گی-