انوارالعلوم (جلد 12) — Page 461
۴۶۱ عفو کا خیال نہیں رکھا ہر حالت میں سزا دینے پر زور دیا ہے- مگر قرآن نے دونوں قسم کے لوگوں کا خیال رکھا ہے- پھر ہر زمانہ کا خیال رکھا ہے- اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے- چنانچہ فرمایا قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا *۷۰؎کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں- پس قرآن کریم سے پہلی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے ساری دنیا کو دعوت دی ہو- انہوں نے دوسری قوموں کیلئے رستے بند کر دیئے- حضرت مسیح کا انجیل میں یہ قول موجود ہے کہ-: ‘’میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا’‘-۷۱؎ اور یہ کہ-: ‘’لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں’‘- ۷۲؎ گویا مسیح نے بنی اسرائیل کے سوا کسی اور کو ہدایت دینے سے انکار کر دیا- مگر قرآن میں سب قوموں کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان جمع کر دیئے- مثلاً (۱)سارے نبیوں کی تصدیق کی- اس سے سب کے دلوں میں بشاشت پیدا کر دی- لیکن اگر کوئی ہندو عیسائی ہو تو اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بدھ اور کرشن جھوٹے ہیں- اور اگر کوئی عیسائی ہندو ہو- تو اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے- مگر کتنی خوبی کی بات ہے کہ قرآن نے کہہ دیا- انا ارسلنک بالحق بشیرا و نذیرا- وان من امة الا خلافیھا نذیر۷۳؎ہم نے اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے- اور کوئی قوم ایسی نہیں جس میں ہماری طرف سے نذیر نہ بھیجا گیا ہو- اس بنا پر رسولکریم ﷺ نے تمام اقوام سے کہہ دیا کہ مجھے قبول کر کے تمہیں اپنے بزرگوں کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں- وہ بھی سچے تھے- ہاں ان میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ ان کی تعلیم اس زمانہ کے لئے مکمل تھی جس میں وہ آئے- لیکن میں جو تعلیم لایا ہوں یہ ہر زمانہ کے لئے مکمل ہے- مفتری ہمیشہ ناکام ہوتا ہے دوسری دلیل رسول کریم ﷺ کے مفتری نہ ہونے کی قرآن کریم یہ بیان کرتا ہے کہ مفتریوں کا ذکر کرنے کے بعد