انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 460

۴۶۰ ہوگا کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا- صدقہ و خیرات اور مرد و عورت کے تعلقات کے متعلق تفصیلی احکام گذشتہ سال کے مضمون میں بیان کر چکا ہوں- اور بتا چکا ہوں کہ پہلی کتب میں ان امور کے متعلق صرف مختصر احکام دیئے گئے ہیں- مگر قرآن کریم نے ہر ایک حکم کی غرض اور اس کے استعمال کی حدود وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں- دلائل و براہین سے مزیّن کلام قرآن کریم کو چوتھی خصوصیت یہ بیان کی کہ لاریب فیہ- ہر ایک امر کو دلیل سے بیان کرتا ہے اور شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا- شک ہمیشہ ابہام سے پیدا ہوتا ہے- مگر قرآن کریم کے دعوؤں کی بنیاد مشاہدہ پر ہے- قرآن میں ہستی باری تعالیٰ‘ ملائکہ‘ دعا‘ نبوت‘ انبیاء کی ضرورت‘ قضاء و قدر‘ حشرونشر‘ جنت و دوزخ‘ نماز و روزہ‘ حج و زکٰوۃ اور معاملات وغیرہ کے متعلق دلائل بیان کئے گئے ہیں- یونہی دعوے نہیں کئے گئے- مثلاً جنت کے متعلق آتا ہے- ولمن خاف مقام ربہ جنتان۶۹؎ ہم یہ نہیں کہتے کہ مرنے کے بعد تمہیں جنت ملے گی- اور تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرنے کے بعد کیا معلوم جنت ملے گی یا نہیں- قرآن اسی دنیا میں جنت کا ثبوت پیش کرتا ہے- اور مومنوں کو اسی دنیا میں جنت حاصل ہو جاتی ہے- اس کا ثبوت یہ دیا کہ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکة الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنة التی کنتم توعدون- ۷۰؎یعنی وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہیں- ان پر فرشتے اترتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں کہ تم غم نہ کرو- تم کو جنت کی بشارت ہو- گویا اسی دنیا میں انہیں خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اور جب خدا کا کلام مل گیا تو ریب کہاں رہ گیا- قرآن کریم کے ذریعہ صفت رب العلمین کا ظہور پانچویں بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن کریم کا اس حالت میں نزول ہوا کہ اس سے رب العالمین کی صفت کا ظہور ہوتا ہے- اس لئے کہ اس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے- بعض انسانوں میں غصہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ انہیں عفو کی طرف توجہ دلائی جائے بعض میں دیوثی اور بے غیرتی ہوتی ہے انہیں غیرت کی تعلیم دی گئی- انجیل نے اس کا خیال نہیں رکھا اس نے ہر حال میں عفو کی تعلیم دی ہے اور تورات نے