انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 436

۴۳۶ عجیب و غریب حرکات کراؤں- یہ خیال کر کے میں ان کی مجلس میں گیا- اور ان پر توجہ ڈالنے لگا- مگر وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بڑے اطمینان کے ساتھ باتیں کرتے رہے اور ان پر کچھ اثر نہ ہوا- پھر میں نے اور زور لگایا- مگر پھر بھی کوئی اثر نہ ہوا- آخر میں نے سارا زور لگایا اور کوشش کی کہ آپ پر اثر ڈالوں مگر اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ ایک شیر مجھ پر حملہ کرنے لگا ہے- یہ دیکھ کر میں وہاں سے بھاگا- اور واپس چلا آیا- لاہور جا کر اس نے حضرت مسیح موعودؑ کو خط لکھا کہ میں نے سمجھ لیا ہے کہ آپ بہت بڑے ولی اللہ ہیں- کسی نے اسے کہا- کہ تم نے ولی اللہ کس طرح سمجھ لیا- ہو سکتا ہے وہ مسمریزم میں تم سے زیادہ ماہر ہوں- اس نے کہا- مسمرائیزر کے لئے ضروری ہے کہ وہ خاموش ہو کر دوسرے پر توجہ ڈالے- مگر وہ اس وقت دوسروں سے باتیں کرتے رہے تھے اس لئے وہ مسمرائیزر نہیں ہو سکتے- پانچواں اعتراض ایک اعتراض یہ کیا گیا- کہ آپ کاہن ہیں- کاہن وہ لوگ ہوتے ہیں جو مختلف علامات سے آئندہ کی خبریں بتاتے ہیں- چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے- ولا بقول کاھن قلیلا ماتذکرون-۳۰؎لوگ تجھے کاہن کہتے ہیں- حالانکہ تیرا کلام ایسا نہیں- مگر یہ لوگ بالکل نصیحت حاصل نہیں کرتے- یہ عجیب بات ہے کہ قرآن کریم میں جہاں دو جگہ مسحور کا ذکر آیا ہے وہاں دونوں جگہ یہ آیت بھی ساتھ آئی ہے کہ انظر کیف ضربوا لک الامثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا-اسی طرح کاہن کا لفظ بھی دو جگہ آیا ہے اور دونوں جگہ ذکر کا لفظ ساتھ ہے- جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاہن اور مذکر دونوں اضداد میں سے ہیں- چنانچہ سورہ طور رکوع۲ میں آتا ہے- فذکر فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون- ۳۱؎ان لوگوں کو نصیحت کر کیونکہ تو اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہے نہ مجنون- یعنی کاہن مذکر نہیں ہو سکتا- اور مذکر کاہن نہیں ہو سکتا- اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کاہن درحقیقت ارڑپوپو کی قسم کے لوگوں کو کہتے ہیں جو بعض علامتوں وغیرہ سے اخبار غیبیہ بتاتے ہیں- چونکہ رسول کریم ﷺ غیب کی اخبار بتاتے تھے- بعض نادان آپﷺ کو کاہن کہہ دیتے تھے- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی اخبار تو محض اخبار ہوتی ہیں- اور اس کی اخبار تذکیر کا پہلو رکھتی ہیں اور اصلاح نفس اور اصلاح قوم سے تعلق رکھتی ہیں پھر یہ کاہن کیونکر ہوا- کاہنوں کی خبریں تو ایسی ہی ہوتی ہیں جیسے مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کو