انوارالعلوم (جلد 12) — Page 435
۴۳۵ علی الکفرین عسیرا-اور مکہ کی فتح کا دن کافروں پر بڑا سخت ہوگا- باقی رہے خزانے سو ان کے متعلق فرمایا- وقال الرسول یرب ان قومی اتخذوا ھذا القران مھجورا ۲۶؎ہمارا یہ رسول قیامت کے دن اپنے خدا سے کہے گا کہ اے میرے رب! انہوں نے اگر حکومت نہ دیکھی تھی تو اس کے متعلق اعتراض کر لیتے- خزانے نہ دیکھے تھے تو اعتراض کر لیتے- فرشتے نہ دیکھے تھے تو اعتراض کر لیتے مگر یہ قرآن کو دیکھ کر کس طرح انکار کر سکتے تھے- مگر افسوس کہ اتنے بڑے قیمتی خرانہ کا بھی انہوں نے انکار کر دیا- حالانکہ یہ تو ان کو دکھائی دینے والی چیز تھی- سورۃ بنی اسرائیل میں بھی یہ ذکر ہے کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلم کو مسحور کہا جاتا تھا- چنانچہ فرماتا ہے- اذ یقول الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا- ۲۷؎یعنی ظالملوگ کہتے ہیں کہ تم ایک مسحور کی پیروی کر رہے ہو- پھر اس جگہ اور سورہ فرقان میں بھی اس کے معاً بعد یہ آیت آتی ہے- انظر کیف ضربوا لک الا مثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا ۲۸؎یعنی دیکھ یہ کیسی باتیں تیرے لئے بیان کرتے ہیں- حالانہ یہ سارا زور تیرے پیش کردہ کلام کے رد میں لگا رہے ہیں- اور ناکامی اور نامرادی کی وجہ سے ان کی جانیں نکلی جا رہی ہیں مگر پھر بھی یہ کہتے ہیں کہ اس پر کسی جادو کا اثر ہے- اگر یہ بات ہے تو پھر اس کمزور کے مقابلہ سے یہ لوگ کیوں عاجز آ رہے ہیں- مسحور تو دوسروں کا تابع ہوتا ہے اور یہ لوگوں کو اپنے تابع کر رہا ہے- اور دوسرے تمام لوگ اس کے مقابل پر عاجز ہیں- مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس اعتراض میں مسلمان بھی کافروں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں- اورانہوں نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ رسول کریم ﷺ پر ایک دفعہ جادو کر دیا تھا- اور اس کے اثرات بڑے لمبے عرصہ تک آپ پر رہے- اور اس میں وہ امام بخاری کو بھی گھسیٹ لائے ہیں- حالانکہ قرآن کریم میں وہ صاف طور پر پڑھتے ہیں واللہ یعصمک من الناس- ۲۹؎خدا تعالیٰ تجھے لوگوں کے حملہ سے محفوظ رکھے گا- اگر لوگ رسول کریم ﷺ پر سحر کر سکتے تھے تو پھر یعصمک من الناس کس طرح درست ہوا؟ ہم تو دیکھتے ہیں رسول کریم ﷺ تو الگ رہے- آپﷺ کے غلاموں پر بھی کوئی سحر نہیں کر سکتا- ایک شخص نے ایک احمدی دوست سے بیان کیا کہ میں مسمریزم میں بڑا ماہر ہوں- ایک دفعہ میں نے ارادہ کیا کہ مرزا صاحب کے پاس جا کر ان پر مسمریزم کروں- اور لوگوں کے سامنے ان سے