انوارالعلوم (جلد 12) — Page 416
۴۱۶ اپنے فہم اور اپنے درجہ کے مطابق تشریح کی جا سکتی ہے- تفسیر القرآن کا دیباچہ براہین احمدیہ میرے نزدیک تفسیر القرآن کا دیباچہ ہے- تفسیر القرآن لکھتے وقت پہلے جن مضامین پر سیر کن بحث کرنی چاہئے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمدیہ میں شروع کیا تھا دل چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس کی ظاہری تکمیل بھی ہو جائے- باطنی تکمیل تو اللہ تعالیٰ نے کر دی تین سو دلائل چھوڑ کئی لاکھ آسمانی دلائل آپ نے پیش کر دیئے- لیکن جب آسمانی دلائل پیش ہو چکے تو ان ظاہریدلائل کو بھی پیش کر دینا سلسلہ کی بہت بڑی خدمت ہو گی- جی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کو توفیق دے تو وہ براہین احمدیہ کا ظاہری مقصد بھی پورا کر دے- میں نے پہلے کچھ تمہیدی ریمارکس اس مضمون کے متعلق ۱۹۲۸ء میں بیان کئے تھے اور ۱۹۲۹-۱۹۳۰ء کی تقریروں میں چھ دلیلیں قرآن کریم کی افضلیت کے متعلق بیان کی تھیں اور ۱۹۳۰ء کے جلسہ کے موقع پر ساتویں دلیل بیان کرنے سے پہلے ہی لمبا وقت ہو گیا تھا- اور ادھر مجھے ضعف ہونے لگ گیا تھا- اس وجہ سے اس تقریر کو جلد ختم کر دینا پڑا اس ساتویں دلیل کا ایک حصہ ابھی باقی تھا- اب میں اسے بیان کروں گا اور اس کے بعد آٹھویں دلیل شروع کروں گا- ساتویں دلیل کا بقیہ حصہ میں اس مضمون پر پچھلے سال بیان کر رہا تھا کہ قرآن کریم نہ صرف اس لحاظ سے محفوظ ہے کہ کوئی انسانی ملاوٹ اس میں نہیں ہوئی بلکہ کوئی انسانی ملاوٹ اس میں ہو بھی نہیں سکتی- گویا قرآن کریم کو یہی فضیلت حاصل نہیں کہ باقی آسمانی کتابوں میں انسانی تصرف ہو چکا ہے مگر اس میں نہیں ہوا- بلکہ اس کی یہ بھی فضیلت ہے کہ دوسری کتابوں میں انسانی تصرف ممکن ہے مگر قرآن میں ممکن بھی نہیں- میں نے اس کے دو ثبوت پچھلے سال بیان کئے تھے اب میں تیسرا ثبوت اس امر کا کہ قرآن کریم میں تبدیلی نہیں ہو سکتی بیان کرتا ہوں- اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کلام اللہ ہے اور کلام اللہ میں عقلاً انسانی تبدیلی ناممکن ہے- شاید اکثر لوگ حیران ہوں کہ کلام اللہ تو باقی کتابیں بھی ہیں- پھر قرآن کو یہ خصوصیت کس طرح حاصل ہوئی- حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جو کتاب نازل ہوئی وہ بھی کلام اللہ تھی- اسی طرح حضرت نوح علیہ السلام‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیاء پر بھی خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوا- جب وہ بھی کلام اللہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان میں تو