انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 410

۴۱۰ پھنس گیا جن کے ایام کسی اور ہی زبان کے ہیں- میں امید کرتا ہوں وہ اپنی لغت کو ہماری لغت کے مطابق بنا کر اب سے دو ہفتہ میں یہ کام کر دیں تا کہ پسماندگان کیلئے کچھ نہ کچھ انتظام ہو سکے- گو یہ سکیمیں اصل علاج نہیں- اصل سکیم وہی ہے جو اسلام نے مقرر کی ہے یعنی زکوۃ کی مد مقرر کر دی ہے- یہ تمام ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے- مگر یہ انتظام حکومت کے ذریعہ ہو سکتا ہے اور حکومت ابھی ہمارے پاس نہیں تا ہم میں امید کرتا ہوں دوست زکوۃ کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ کریں گے- ہر قسم کا بیمہ ناجائز ہے میں نے بیمہ کے متعلق گزشتہ سال کے جلسہ پر اپنے خیالات ظاہر کئے تھے مگر افسوس بعض دوستوں نے یاد نہیں رکھے- اور اب بھی خطوط آتے رہتے ہیں- حالانکہ میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ جتنی سکیمیں اس قسم کی ہیں‘ وہ اسلام کے خلاف ہیں اور ان میں حصہ نہ لینا چاہئے- آج پھر میں اس بات کو دہراتا ہوں- جو دوست موجود ہیں وہ یاد رکھیں اور دوسروں کو پہنچا دیں کہ ہم ہر قسم کے بیمہ کو ناجائز سمجھتے ہیں- سلسلہ کے اخبارات اور بعض کتب کے متعلق ارشاد مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے اخبار پوری طرح ترقی نہیں کر رہے- مثلاً الفضل ہے- چھ سال سے اس کی تعداد پندرہ سو اور اڑھائی ہزار کے درمیان چلی آتی ہے- حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ جس طرح جماعت بڑھتی ہے اخبار بھی بڑھتا- مگر جب کہ جماعت دوگنی ہو گئی ہے‘ اخبار کی تعداد اتنی ہی ہے- اس کے معنی یہ ہیں کہ جو دوست اخبار خرید سکتے ہیں وہ نہیں خریدتے اور وہ جو غریب ہیں وہ مل کر نہیں خریدتے جو افراد الگ الگ نہیں خرید سکتے وہ مل کر خرید لیں- اس طرح اخبار کی اشاعت تین چار ہزار تک چند ماہ میں ہو سکتی ہے- الفضل کے علاوہ نور اور فاروق ہیں- شائد کوئی تحریک اتنی ناکام نہ ہوئی ہوگی جتنی ان کی اشاعت کے متعلق تحریک ہوئی ہے- مگر میں بھی نہیں تھکتا- شائد کوئی سال نور اور فاروق کیلئے بھی اچھا آ جائے اور ان کی اشاعت ترقی کر جائے- یہ کام کے اخبار ہیں اور اچھا کام کر رہے ہیں- پھر ایک کتاب ہماری نماز ہے- یہ بچوں کیلئے مفید ہے- ایک کتاب تفہیمات ربانیہ ابوالعطاء مولوی اللہ دتا صاحب کی لکھی ہوئی ہے- میں نے اسے دیکھا نہیں کہتے ہیں اچھی